محمود شام گم شدہ آدمی کو ڈھونڈنا ہے لاپتہ آگہی کو ڈھونڈنا ہے در امکاں پہ دستکیں ہوں گی ممکنہ سر خوشی کو ڈھونڈنا ہے شور شوں میں جنوں کی نقاشی ورثہء سرکشی کو ڈھونڈنا ہے ختم ہوں گے دلوں میں سناٹے سرمدی نغمگی کو ڈھونڈنا ہے مصلحت سے مکالمہ ہوگا جرات دائمی کو ڈھونڈنا ہے جھانکنا ہے حسین انکھوں میں دلربا دلبری کو ڈھونڈنا ہے پھول تو بوڑھے ہو چکے سارے نو شگفتہ کلی کو ڈھونڈنا ہے بذلہ سنجی بھی ہے ظرافت بھی خوئے سنجیدگی کو ڈھونڈنا ہے سخت گیری تو ہو چکی ہے بہت مہرباں خواجگی کو ڈھونڈنا ہے