• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسپورٹس بورڈ مداخلت کے خلاف فیڈریشنز کا اعلان جنگ، عدالت جانے کی تیاری

کراچی (نصر اقبال/ اسٹاف رپورٹر) پاکستان اسپورٹس بورڈ اور قومی کھیلوں کی فیڈریشنوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بیشتر فیڈریشنز نے پی ایس بی پر خود مختاری میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ پی ایس بی کا موقف ہے کہ وہ سرکاری گرانٹس کے حساب کتاب اور ملکی قوانین کے تحت کارروائی کا حق رکھتا ہے۔پاکستان اسپورٹس بورڈ نے حالیہ دنوں میں پاکستان جوڈو، تائیکوانڈو اور سیلنگ فیڈریشن کے صدور اور سیکریٹریز کو 7 روز میں عہدوں سے الگ ہونے کے نوٹسز جاری کیے تھے، جبکہ نیٹ بال فیڈریشن کے عہدیداروں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس اقدام کے خلاف فیڈریشنز اپنی بقاء کے لیے متحرک ہو گئی ہیں۔ تائیکوانڈو فیڈریشن کے صدر کرنل (ر) وسیم نے جمعرات کو اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپورٹس پالیسی کا احترام کرتے ہیں لیکن فیڈریشن کے آئین کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی میں دو ٹرم کے علاوہ بھی کئی نکات ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔جوڈو فیڈریشن کے سیکریٹری مسعود خان نے 6 جنوری کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ ہو گا۔ دوسری جانب نیٹ بال فیڈریشن نے آن لائن اجلاس میں پابندی کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پی ایس بی کے بعض افسران جان بوجھ کر کھیل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ کراچی میں ان کے دفاتر اور اکیڈمی کو بند کرانا، دو سال سے گرانٹس روکنا اور ایشین چیمپئن شپ میں شرکت میں رکاوٹیں ڈالنا دشمنی پر مبنی ہے۔ادھر پی ایس بی کے ترجمان نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کے خلاف نہیں لیکن برسوں سے عہدوں پر قابض افراد کھیل کو ترقی دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ترجمان کے مطابق کئی عہدیدار اپنی عالمی تنظیموں کے قوانین پر بھی عمل نہیں کر رہے، جس کے باعث پی ایس بی اب متعلقہ عالمی باڈیز سے رابطہ کر کے انہیں اصل حقائق سے آگاہ کرے گا۔

اسپورٹس سے مزید