• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2025ء میں بھی بڈھ بیر میں سب سے زیادہ 49 افراد قتل

پشاور(کرائم رپورٹر)پشاور میں دیگر سالوں کی طرح 2025کے دوران بھی بڈھ بیر میں سب سے زیادہ 49افراد قتل ہوئے جبکہ دیگر تھانوں کی حدود میں بھی قتل واقعات پیش آئے۔زیادہ ترقتل واقعات جائیداد و رقم تنازعات، خواتین وگھریلو مسائل ،غیرت کے نام پراورزبانی تکراروغیرہ کے باعث رونما ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق بڈھ بیر میں گزشتہ سال بھی سب سے زیادہ قتل واقعات رپورٹ ہوئے، علاقہ قبائلی علاقے سے منسلک ہونے،یہاں اسلحہ کی فراوانی اورجائیداد وقتل مقاتلے کی دشمنیوں کی وجہ سے یہ علاقہ سب سے زیادہ حساس ترین علاقہ تصور کیاجاتا ہے جہاں 49شہری لقمہ اجل بنے جبکہ 2024میں 59 سے زائد افراد قتل ہوئے تھے۔ دوسرے نمبر پر تھانہ متھرا کی حدود میں 33 افراد جبکہ چمکنی میں 31افراد کی جانیں گئیں۔ارمڑ میں بھی31شہری،تھانہ مچنی گیٹ کی حدود میں مختلف علاقوں میں28افراد،داؤدزئی میں26سے زائدشہری، پشتخرہ میں 24،انقلاب اورشاہ پور میں23,23افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ڈیٹا کے مطابق گزشتہ سال بھانہ ماڑی میں بھی 22افراد، سربند میں 21 ،پھندو میں 16جبکہ ریگی میں بھی15افرادکے قتل واقعات پیش آچکے ہیں۔ اسطرح پشاور کے دیگر تھانوں کی حدود میں بھی قتل وارداتیں رپورٹ ہوچکی ہیں ۔
پشاور سے مزید