کراچی (اسٹاف رپورٹر) بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران سکیورٹی خدشات کے حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو ٹھوس شواہد فراہم کر دیے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ سے 10 جنوری تک حتمی فیصلہ طلب کیا ہے کہ وہ بھارت میں اپنے ورلڈ کپ میچز کھیلنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔بی سی بی کے قانونی مشیر کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کو ای میل کے ذریعے تقریباً 16 لنکس بھیجے گئے ہیں، جن میں ٹی وی رپورٹس، یوٹیوب ویڈیوز اور اخبارات کے تراشے شامل ہیں۔ ان شواہد کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ موجودہ حالات میں بھارتی سرزمین پر بنگلہ دیشی کرکٹرز اور دیگر افراد کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔ بی سی بی حکام کے مطابق جب ایک کھلاڑی کی حفاظت یقینی نہیں تو پورے اسکواڈ کی سکیورٹی کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ کھلاڑیوں، صحافیوں، اسپانسرز اور شائقین کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور موجودہ حالات میں بھارت محفوظ مقام نہیں۔ بی سی بی کا کہنا ہے کہ سری لنکا بھی ورلڈ کپ کا میزبان ملک ہے اور بنگلہ دیش وہاں کھیلنے پر آمادہ ہے، تاہم ملک کے وقار پر سمجھوتہ کر کے بھارت میں کھیلنا قابل قبول نہیں۔دوسری جانب بھارت میں ورلڈ کپ میں شرکت کے معاملے پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اندرونی تنقید کی زد میں بھی آ گیا ہے۔ بی سی بی کی فنانس کمیٹی کے چیئرمین ایم نجم الاسلام کی جانب سے سابق قومی کپتان تمیم اقبال کو سوشل میڈیا پر ’’انڈین ایجنٹ‘‘ قرار دینے پر کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش نے شدید ردعمل دیا ہے۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ 16 سال تک ملک کی نمائندگی کرنے والے اور تاریخ کے کامیاب ترین اوپنر کے خلاف ایسا بیان ناقابل قبول اور پوری کرکٹ برادری کی توہین ہے۔ واضح رہے کہ تمیم اقبال نے آئی سی سی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا تھا، جس کے بعد یہ تنازع شدت اختیار کر گیا۔