• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

IMF پر انحصار یا ترقی، 2 راستے، قرض پر گزارہ ممکن نہیں، برآمدات کا فروغ اور پیداوار بڑھانا مالیاتی فنڈ سے چھٹکارے کا واحد راستہ، احسن اقبال

اسلام آباد ( مہتاب حیدر/ایجنسیاں)وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس دو ہی راستے ہیں یاتوآئی ایم ایف پر اور دوطرفہ شراکت داروں سے قرضوں پر انحصار جاری رکھا جائے یا پیداواری صلاحیت بڑھا کر برآمدات کی بنیاد پر معاشی ترقی حاصل کرکے آئی ایم ایف کو الوداع کہاجائے ‘قرض پر گزارہ نہیں کرسکتے، برآمدات کا فروغ اور پیداوار بڑھانا IMF سے چھٹکارے کا واحد راستہ ہے ‘معیشت کامجموعی حجم 10کھرب ڈالرہونا چاہیے۔ برآمدات کو آئندہ چار برس میں 60 ارب ڈالر اور 2035 تک 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کی جی ڈی پی 600ارب ڈالر تک محدود رہے گی جبکہ ہدف 10کھرب ڈالر ہونا چاہیے۔ صنعتی شعبے کو قومی تعطیلات میں بھی فعال رکھنے کی تجویز ملی ہے‘ ترقی کیلئے چھٹیوں میں بھی کام کرنا ہوگا۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 210 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈزخرچ کیے جا چکے ہیں‘گزشتہ دور حکومت میں 6 فیصد گروتھ کے لیے امپورٹ کھولی گئیں‘ اس سے تجارتی خسارے میں 50 ارب ڈالر اضافہ ہوا۔غیر ملکی زر مبادلہ پاکستان کی معیشت کیلئے آکسیجن ہے‘ہم مصنوعی جی ڈی پی گروتھ نہیں چاہتے ‘حکومت کو ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے کی تجویز دی ہے۔پاکستان امریکا اور چین سے 10 ہزار اسکالرشپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، زیتون اور چائے کی مقامی پیداوار کو فروغ دے رہے ہیں،پولیو کے خاتمے کیلئے بل گیٹس نے 2 ارب ڈالر دیے۔ پیر کو دسمبر 2025 کے ماہانہ ترقیاتی اپڈیٹ (MDU) کے اجرا کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی ہے جو موجودہ 7 ارب ڈالر IMF ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کی تکمیل کے بعد IMF کے بغیر معیشت چلانے کا روڈ میپ تیار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے کم ویلیو مصنوعات سے ہائی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جبکہ چند منتخب شعبوں پر توجہ دے کر اربوں ڈالر کی برآمدات حاصل کی جائیں گی۔ صنعتی شعبے کو قومی تعطیلات میں بھی فعال رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔وزیر منصوبہ بندی کے مطابق برآمدات میں آئندہ چند برسوں میں 20 ارب ڈالر تک اضافے کی گنجائش موجود ہے۔

اہم خبریں سے مزید