کراچی (اسٹاف رپورٹر) ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے بھارتی کرکٹ بورڈ بنگلہ دیش کے خدشات خاطر میں لانے کو تیار نظر نہیں آرہا، ڈیڈلاک برقرار ہے۔ بھارتی حکام کا خیال ہے کہ ملک میں بنگلہ دیش ٹیم کیلئے سیکورٹی خطرہ زیادہ نہیں۔ ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی بھی اس کے میچز سری لنکا منتقل کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا، گروپ میچز کیلئے دو نئے وینیوز چنئی اور تھیرو وننتھاپورم کے وینیوز تجویز کیے جائیں گے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آئی سی سی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان مؤقف سے دستبرداری کی جنگ جاری ہے ۔ ادھر بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرول نے کہا کہ آئی سی سی سیکیورٹی ٹیم کا خط موصول ہونے کے بعد بنگلہ دیش کی ٹیم کے لیے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے بھارت کا دورہ کرنا ناممکن ہے، آئی سی سی کے جائزے نے بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں کھیلنے میں مشکلات کا اظہار کیا۔ ڈھاکا میں میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ آ ئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم اور سیکیورٹی کے انچارجز نے ایک خط بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تین چیزوں سے بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے سیکیورٹی کو خطرہ بڑھ سکتا ہے اگر مستفیض الرحمان کو بنگلہ دیش ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے، دوسرا اگر بنگلہ دیشی ٹیم کے سپورٹرز بنگلہ دیش کی قومی جرسی اور ہماری قومی جرسی پہن کر گھومتے ہیں۔ اور تیسرا یہ کہ الیکشن جتنا قریب آتا ہے، بنگلہ دیشی ٹیم کیلئے سیکیورٹی کا خطرہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کو کوئی خاص یا زیادہ خطرہ نہیں ہے، بعض مقامات پر خطرہ ہے جس کیلئے بنگلہ دیش کے میچوں کے مقامات کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ دریں اثناء ایک کرکٹ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ صورت حال سے لگ رہا ہے کہ آئی سی سی کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے، میچ کے شیڈول کو حتمی شکل دے کر عام کر دیا گیا ہے، اس مرحلے پر تمام ٹیموں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کی شرائط کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ علاوہ ازیں بنگلہ دیش کے کھیلوں کے مشیر کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم کا بیان شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کررہا ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کیلئے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کی کوئی صورت حال نہیں ہے، اگر آئی سی سی ہم سے بہترین بولر کے بغیر کرکٹ ٹیم بنانے کی توقع رکھتا ہے، ہمارے حامی بنگلہ دیش کی جرسی نہیں پہن سکیں گے، اور ہم بنگلہ دیش کے انتخابات کو کرکٹ کھیلنے کے لیے ملتوی کر دیں گے، تو اس سے زیادہ غیر معمولی اور غیرمنطقی توقع اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ گزشتہ 16 مہینوں سے بھارت میں جاری بنگلہ دیش مخالف مہم نے بنگلہ دیش کیلئے بھارت میں کرکٹ کھیلنا ناممکن بنا دیا ہے۔