کراچی (اسٹاف رپورٹر / جنگ نیوز) بھارت کی پاکستان سے نفرت اور مخاصمانہ رویہ ؤاب دوسرے ملکوں کی ٹیموں میں نمائندگی کرنے والے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں تک پہنچ گیا ہے۔ بھارتی بورڈ کے اقدامات سے ٹی 20 ورلڈکپ سے قبل بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔ امریکا کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل چار پاکستانی پس منظر کے کھلاڑی فاسٹ بولر علی خان، شایان جہانگیر، احسان عادل اور محمد محسن ویزہ مسترد ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ علی خان نے سوشل میڈیا پر ویزہ مسترد ہونے کا اعلان کیا، جبکہ دیگر کھلاڑیوں کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں کہ وہ اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ کھلاڑی کولمبو میں جاری تربیتی کیمپ میں شریک ہیں اور اگر ویزہ مسائل بروقت حل نہ ہوئے تو اسکواڈ میں آخری وقت پر تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں، جو ٹیم کیلئے مشکلات پیدا کرے گا۔ بھارت نے ویزا درخواستوں پر اضافی جانچ پڑتال کی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستانی پس منظر رکھنے والے کھلاڑی جان بوجھ کر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آئی سی سی نے ابھی کوئی باقاعدہ بیان نہیں دیا، لیکن سمجھا جاتا ہے کہ وہ مسئلے کے حل کیلئے کوشاں ہے ۔ عمان، یو اے ای اور اٹلی کی ٹیمیں بھی اس صورتحال کو دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہی ہیں کیونکہ ان کی اسکواڈز میں پاکستانی نژاد یا پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے کھلاڑی شامل ہو سکتے ہیں۔ انگلش اسکواڈ میں عادل راشد اور ریحان احمد شامل ہیں۔ گزشتہ ستمبر میں آئی سی سی نے تمام ٹیموں کو مطلع کیا تھا کہ بھارت اور سری لنکا کے ویزے حاصل کرنا متعلقہ بورڈز کی ذمہ داری ہوگی، تاہم ضرورت پڑنے پر آئی سی سی سہولت فراہم کرے گا۔ یو ایس اے کی صورت میں، یہ ذمہ داری آئی سی سی پر ہوگی۔ یہ صورتحال نہ صرف امریکا بلکہ دیگر ایسوسی ایٹ ٹیموں کیلئے بھی پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔ امریکا کے گروپ میں پاکستان، بھارت، نمیبیا اور نیدرلینڈز شامل ہیں اور امریکا کا پہلا میچ بھارت کے خلاف 7 فروری کو ہے۔ گروپ اسٹیج میں امریکا کے 4 میں سے 3 میچز بھارت میں شیڈول ہیں ۔ معاملہ عالمی کرکٹ کیلئے حساس بنتا جا رہا ہے، جس میں بھارت کا رویہ، پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کی حفاظت، آئی سی سی کی مداخلت اور دیگر ایسوسی ایٹ ٹیموں پر اثرات سب ایک ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔بھارت اور پاکستان کے خراب سیاسی تعلقات نے ویزہ حصول کے عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے، یہاں تک کہ وہ کھلاڑی جو دیگر ممالک کے شہری ہیں، بھی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماضی میں انگلینڈ کے شعیب بشیر اور ثاقب محمود کو ویزے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، مگر آخرکار انہیں ویزے جاری کر دیے گئے۔ آسٹریلیا کے عثمان خواجہ کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ 2023 کے ون ڈے عالمی کپ کے دوران بھی پاکستانی ٹیم کے ویزے بھارت کے سفر سے قبل تاخیر کا شکار رہے۔ امریکا، جس نے 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سپر ایٹز کے مرحلے تک پہنچ کر 2026 کے ٹورنامنٹ میں براہِ راست داخلہ حاصل کیا، اپنے چار گروپ اے میچز میں سے تین میچز بھارت میں کھیلنے والے ہیں۔ امریکا کا پہلا میچ ٹی 20 ورلڈ کپ کے افتتاحی دن 7 فروری کو ممبئی میں موجود دفاعی چیمپئن بھارت کے خلاف ہے، اس کے بعد 10 فروری کو کولمبو میں پاکستان کے خلاف، اور پھر دو میچز چنئی میں - نیدرلینڈز (13 فروری) اور نمیبیا (15 فروری) کے خلاف شیڈول ہیں۔