لندن (جنگ نیوز) انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اپنے کھلاڑیوں کے لیے دوبارہ کرفیو نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے، کیونکہ حالیہ ایشز سیریز میں آف دی فیلڈ سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ انگلینڈ نے آسٹریلیا میں ایشز 4–1 سے ہار کر شائقین کو مایوس کیا، لیکن ٹیم کے کھلاڑیوں کے غیر متوقع رویوں نے بھی تنازع کھڑا کیا۔ دوسرے ٹیسٹ کے بعد، جب انگلینڈ 2–0 کے خسارے میں تھا ، کھلاڑی نوسا کے ساحلی علاقوں میں چھ دن کی تفریح کے دوران بھاری شراب نوشی کرتے نظر آئے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہوئیں، جن میں اوپنر بین ڈکیٹ کو ریزورٹ کے باہر کسی سے الجھتے ہوئے دیکھا گیا۔ پرتھ میں بھی کئی کھلاڑی کیسینو میں دکھائی دیے۔ یہ واقعات پہلے نیوزی لینڈ میں ہیری بروک کے نائٹ کلب تنازع کے بعد ڈسپلن پر سوالات بڑھا گئے۔ وائٹ بال کپتان اور ٹیسٹ وائس کپتان ہیری بروک نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ میچ سے ایک دن قبل نائٹ کلب میں داخلے سے انکار پر جھگڑے میں ملوث پائے گئے تھے، جس پر انہیں 30 ہزار پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا۔ انگلش کرکٹ بورڈ اب سری لنکا اور بھارت کے دورے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ٹی 20 ورلڈ کپ بھی شامل ہے، اور بورڈ فیصلہ کرے گا کہ کھلاڑیوں کے ڈسپلن کو سخت کیا جائے یا موجودہ نرم رویے کو برقرار رکھا جائے۔