کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ کابینہ نے حیدرآباد سکھر موٹروے کی تعمیرکے لیے زمین کے حصول کی مد میں 1 ارب 13 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی، سندھ کلائمیٹ چینج فنڈ اور سندھ کلائمیٹ چینج بورڈ کے قیام کی منظوری، کابینہ نے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کو ایک سال کے لیے انفراسٹرکچر سیس سے استثنیٰ دینے کی منظوری دی‘ کراچی لٹریچر فیسٹیول کے لیے 3 کروڑ روپے اور سندھ آرکائیوز کو مضبوط بنانے کے لیے 10 کروڑ روپے کی منظوری ،وزیر اعلیٰ سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکہ سندھ اپنے آئینی اور مالی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ایسی کسی پالیسی کو مسترد کیا جائے گا جس کے تحت صوبے کے غیر استعمال شدہ ماحولیاتی فنڈز کی دوبارہ تقسیم کی اجازت دی جائے‘سندھ اپنے حصے کا تحفظ کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ماحولیاتی مالیات براہِ راست کمزور طبقات کو فائدہ پہنچائیں‘کابینہ سے منظور ہونے والا ہر روپیہ شفاف طریقے سے خرچ ہو اور اس کی کڑی نگرانی کی جائے۔تفصیلات کے مطابق منگل کوسید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح صرف منظوری نہیں بلکہ عملی ترسیل ہے‘ عوامی فنڈز کا براہِ راست اثر عوامی خدمات اور معیارِ زندگی میں بہتری کی صورت میں نظر آنا چاہیے‘ کابینہ سے منظور ہونے والا ہر روپیہ شفاف طریقے سے خرچ ہو اور اس کی کڑی نگرانی کی جائے۔ کابینہ نے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی کے گرلز ہاسٹل میں دوسری منزل کی تعمیر کے لیے 19کروڑ2 لاکھ 11 ہزار روپے کی اسکیم کی منظوری دی۔ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کابینہ نے سکھر میں سینٹ سیویئرز چرچ اور حیدرآباد میں سینٹ تھامس کیتھڈرل چرچ کی بحالی اور مرمت کے لیے کل لاگت کا 50 فیصد یعنی 10 کروڑ 95 لاکھ روپے منظور کیے جبکہ باقی فنڈز آئندہ مالی سال میں فراہم کیے جائیں گے۔