کراچی( سید محمد عسکری)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو غذائی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہےجن کا حل نوجوانوں کی صلاحیتوں، مہارتوں اور علم میں پوشیدہ ہے‘صحت کے شعبے میں چیلنجزسے نمٹنے کیلئے بھرپور محنت کرنا ہوگی ‘اخلاقیات کے بغیر ٹیکنالوجی بے معنی ہے۔ وہ منگل کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کررہے تھے‘اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور شیخ الجامعہ ڈاکٹر امجد سراج میمن نے بھی خطاب کیا جبکہ وزیر جامعات و بورڈ اسماعیل راہو،چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع، سکریٹری سندھ ایچ ای سی نعمان احسن، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر نگہت شاہ اور رجسٹرار اعظم خان بھی اس موقع پر موجود تھے‘جلسہ تقسیم اسناد میں طب اور صحت سے وابستہ مختلف شعبہ جات کے 570 سے زائد طلبہ و طالبات کو اسناد تفویض کی گئیں، جبکہ نمایاں تعلیمی کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اسناد کے ساتھ مجموعی طور پر 30 تمغے دیے گئے، جن میں 11 طلائی، 10 نقرئی اور 9 کانسی کے تمغے شامل تھے۔ اس موقع پر 9 طلبہ و طالبات کو بیسٹ گریجویٹ کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ تقریب کے آغاز میں غزہ کے شہداء کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری کااپنے خطاب میں کہنا تھاکہ ادویات کا تعلق صرف علاج سے نہیں بلکہ انسانیت سے ہے، یہ غربت کے باعث بیمار ہونے والے بچوں، محروم طبقات اور کمزور افراد کی خدمت کا نام ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہمیشہ برداشت، رواداری اور مزاحمت کی سرزمین رہا ہے۔سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں مہنگا سے مہنگا علاج عوام کو مفت فراہم کیا جا رہا ہے اور صوبے کے اسپتالوں میں بیرونِ ممالک سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔