• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہے، وزیراعظم

اسلام آباد(راناغلام قادر/مہتاب حیدر/اے پی پی )وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط خوش آئند ہے‘ اس ایم او یو سے ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا اور بین الاقوامی ٹرانزیکشن میں آسانی آئے گی‘پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہےجبکہ وفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا کہنا ہےکہ جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہوجائیں گی‘نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے آئی ایم ایف پروگرام کو ترقی مخالف قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت ادائیگی کے نظام میں نظم و ضبط نافذ کر رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق شہباز شریف سے امریکی کمپنی ’’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف کی قیادت میں وفد نے بدھ کو یہاں ملاقات کی جس میں سینیٹر محمد اسحاق ڈار‘فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘وزیر خزانہ محمد اورنگزیب‘چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب ودیگربھی موجود تھے ‘ اس موقع پر ڈیجیٹل ادائیگیوں میں جدت کیلئے پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے‘وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی جدت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار پاکستان کی وسعت اختیار کرتی ڈیجیٹل معیشت کا ایک اہم جزو ہے‘پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔اس موقع پر زچری وٹکوف نے محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کیلئے پاکستان کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی ظاہر کی جس میں سرحد پار ادائیگیوں اور زر مبادلہ کے عمل میں جدت شامل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کو سراہا جس کی بدولت پاکستان عالمی ڈیجیٹل فنانس کے منظرنامے میں تیزی سے ابھر رہا ہے۔اس موقع پر پاکستان اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی (جو ورلڈ لبرٹی فنانشل کی منسلک کمپنی ہے) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ محمد اورنگزیب اورزچری وٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد سرحد پار لین دین کے لیے درکار ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر باضابطہ بات چیت اور تکنیکی مہارت کو فروغ دینا ہے۔علاوہ ازیں بدھ کو یہاںپاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف پروگرام کو ’’ترقی مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ 2.6فیصد سے کم شرحِ نمو جو ملک کی آبادی کی شرحِ اضافہ کے برابر ہے، کو صفر یا منفی گروتھ سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب ترقی ہی کھیل کا بنیادی اصول ہے۔ عموماً آئی ایم ایف کے پروگرام ترقی مخالف ہوتے ہیں‘ہم وزیراعظم کے ساتھ اس پر گفتگو کر رہے ہیں کہ 2.6 فیصد سے کم کسی بھی شرحِ نمو کو صفر یا منفی ترقی کہا جا سکتا ہے جبکہ 2.6فیصدسے زیادہ شرحِ نمو کو خالص ترقی تصور کیا جانا چاہیے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ معیشت کودہرے خسارے کا سامنا ہے‘ بیرونی کھاتوں میں 30 ارب ڈالر کے خلا کو پُر کرنے کی ضرورت ہے اور یہ خلا آسانی سے 10 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر میں اضافے‘10ارب ڈالر برآمدات میں اضافے اور 10 ارب ڈالر خدمات کے شعبے سے حاصل کر کے پُر کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ اور واجبات 130 ارب ڈالر ہیں تاہم ملک کے معدنی وسائل کی مالیت کا اندازہ تقریباً60سے 80کھرب ڈالر لگایا گیاہے ‘ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں البتہ بے فکری کی بھی ضرورت نہیں ہے، بلکہ آنے والی ہر حکومت کو مستقل مزاجی کے ساتھ سخت محنت کرنا ہوگی‘ معاشی پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہیے کیونکہ اصل کھیل ہی تسلسل کا ہے‘دریں اثناء پاکستان پالیسی ڈائیلاگ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئےوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہناتھاکہ حکومت جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے‘معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے۔

اہم خبریں سے مزید