کراچی (نیوز ڈیسک) ایران میں حالیہ پرتشدد مظاہروں میں ملوث ایک گروہ کی مبینہ سرغنہ خاتون نے ملک میں بدنظمی پھیلانے کیلئے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے براہ راست رابطوں کا اعتراف کر لیا ہے، دوسری جانب امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردی ہیں،عرب ممالک کی حکومتوں کے ذرائع کا کہنا ہے ان کا خیال ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم ہوئی ہے ، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، عمان اور مصر ٹرمپ انتظامیہ کو ایران پر حملے سے باز رکھنے پر اصرار کررہے ہیں ،ذرائع کے مطابق امریکا ایران کو مذاکرات کیلئے وقت دے رہا ہے ، سوئٹزرلینڈ نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت گرسکتی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کو ایران کے اندر اتنی حمایت حاصل ہو سکے گی کہ وہ اقتدار سنبھال سکیں،ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ’بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کی جائے۔ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایران کے اصل مسائل انھیں خود حل کرنے چاہئیں۔تفصیلات کے مطابق ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسن نے تہران میں گرفتار افراد سے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ 7مختلف زبانیں جاننے والی ایک خاتون نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایران میں ہنگامہ آرائی اور کشیدگی بڑھانے کے لئے بیرونی عناصر سے تعاون کیا۔ امریکا نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے۔ امریکا نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کی طرف سے دنیا بھر کے بینکوں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔جن ایرانی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سیکریٹری اور پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں۔امریکانے 18 دیگر افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ایران کے وزیرِ دفاع عزیز نصیر زادہ کا کہنا ہے کہ ایران کے پُرتشدد مظاہروں میں اکثر ہلاکتیں ’چاقو کے وار، گلا گھونٹنے اور تقریباً 60 فیصد سر پر ضرب لگانے سے ہوئی ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ مظاہروں میں 150 سے زیادہ اشیا خورد و نوش کی دکانیں تباہ ہوئیں مگر انھیں ’لوٹا نہیں گیا۔‘ان کا دعویٰ تھا کہ ’اس بار امریکی اور اسرائیلی حکام نے کسی بھی طرح اپنی بدنیتی کو نہیں چھپایا اور ایرانی معاملات میں غیر ملکی عناصر کی مداخلت کے ممنوعہ تصور کو توڑ دیا۔