اسلام آباد ( خالد مصطفیٰ) پاکستان کا توانائی شعبہ ایک ساختی بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، کیونکہ سرکاری گیس یوٹیلیٹیز مقامی تیل و گیس پیدا کرنے والی کمپنیوں کو 1.55کھرب روپے کی ادائیگی میں ناکام رہی ہیں۔ اس نادہندگی نے اپ اسٹریم سیکٹر کو طویل مالی قلت میں دھکیل دیا ہے اور ملکی گیس کی پیداوار میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جبکہ معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔غیر ادا شدہ واجبات—جو زیادہ تر سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کے ذمے ہیں—ملک کی توانائی ویلیو چین میں سب سے سنگین مالی رکاوٹوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی واجبات میں سے 991 ارب روپے (یعنی 64 فیصد) ایک سال سے زائد عرصے سے ادا نہیں کیے گئے، جو معاہداتی ادائیگی شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ ان معاہدوں کے تحت گیس یوٹیلیٹیز 30 دن کے اندر ادائیگی کی پابند ہیں۔ اس بڑے ڈیفالٹ کو پاکستان پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیز ایسوسی ایشن نے 13جنوری 2026کو پیٹرولیم ڈویژن کے وفاقی سیکریٹری کو ارسال کردہ خط میں باضابطہ طور پر اجاگر کیا ہے۔مسلسل عدم ادائیگی کے اثرات اب گیس پیداوار میں واضح کمی کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں۔