پشاور(ارشد عزیز ملک)وفاقی حکومت نے ضلع چترال کے علاقے ارندو میں غیر قانونی درختوں کی کٹائی، جنگلات کی بے دریغ تباہی اور لکڑی کی مبینہ اسمگلنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے معاملے کا فوری اور ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے اور قانون کے مطابق قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کےجامع پالیسی تیار کی جائے گی غیر قانونی کٹائی پر مکمل پابندی ہے،سیکرٹری جنگلات، وزیراعظم انسپکشن کمیشن کی جانب سے 22 دسمبر 2025 کو جاری کردہ خط کے مطابق، چترال میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے دوران کمیشن کو مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ ارندو گول سے ٹمبر پالیسی کی آڑ میں لکڑی اسمگل کی جا رہی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی لحاظ سے نہایت حساس اس علاقے میں غیر قانونی کٹائی کے باعث شدید جنگلاتی نقصان ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں مٹی کا کٹاؤ، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے 14 جنوری 2026 کو خط کے ذریعے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو آگاہ کیا کہ پہلے سے ارسال کردہ مراسلات کے باوجود دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ خط میں بتایا گیا کہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی ہے۔وزارت کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے معاملے کا فوری اور ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے اور قانون کے مطابق قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ خط میں سات دن کے اندر کارروائی کی تفصیلات وزیراعظم انسپکشن کمیشن کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیراعظم انسپکشن کمیشن کے خط میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جنگلات کی تباہی سے مقامی آبادی براہِ راست متاثر ہو رہی ہے، جن کا روزگار اور طرزِ زندگی جنگلات اور قدرتی ماحول پر انحصار کرتا ہے۔ خط کے مطابق جنگلات میں کمی موسمیاتی عدم توازن، زرعی پیداوار میں کمی اور پانی کی قلت کا باعث بن رہی ہے، جو خطے کی طویل المدتی پائیداری کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ خطوط میں وزیراعظم کے حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت چترال میں آر ایل این جی پلانٹس کی تنصیب متوقع ہے۔