حیدرآباد (بیورو رپورٹ) سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد کا تاریخی قدم‘ این سی ایچ ڈی کے گزیٹڈ فیلڈ افسران کے حق میں بڑی پیشرفت‘ ٹائم اسکیل پروموشن کیس میں وفاقی وزارت تعلیم اور ڈی جی این سی ایچ ڈی کو نوٹس‘ تفصیلی جواب طلب کرلیا گیا، عدالتی اقدام کے بعد فیلڈ افسران میں انصاف کی بحالی کی امید پیدا ہوگئی ہے جبکہ یہ کیس سرکاری اداروں میں مساوی حقوق اور شفاف نظام کے قیام کی جانب ایک اہم مثال بننے جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد نے وفاقی وزارت تعلیم کے ماتحت انسانی ترقی کے قومی ادارے نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (این سی ایچ ڈی) کے گزیٹڈ فیلڈ افسران کو ٹائم اسکیل پروموشن سے محروم رکھنے کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر ایک اہم اور حوصلہ افزا اقدام اٹھاتے ہوئے وفاقی وزارت تعلیم حکومت پاکستان اور ڈائریکٹر جنرل این سی ایچ ڈی اسلام آباد کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ سماعت سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ جسٹس ارباب علی ہکڑو اور جسٹس ریاضت علی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی جہاں این سی ایچ ڈی کے 25ے زائد فیلڈ افسران کی اپنے وکیل ذیشان علی کے ذریعے داخل کرائی گئی درخواستوں پر تفصیلی سماعت کے بعد عدالت نے سیکرٹری وفاقی وزارت تعلیم اور ڈی جی این سی ایچ ڈی اسلام آباد کو 26 فروری تک جامع اور تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ درخواست گزاروں میں مولا بخش میر بحر، غلام مصطفیٰ بگھیو، حکیم جروار، محمد عمران شیخ، شفیع محمد ملاح‘ قاسم مصطفی سومرو‘ طاہر علی مہر‘ غلام حسین چانڈیو‘ ذوالفقار علی علوی‘ سید سلطان شاہ‘ علی بخش میمن‘ عبدالرزاق جلالانی‘ حبیب اللہ‘ اشوک کمار‘ اتم داس‘ طالب ڈاہری سمیت دیگر افسران شامل ہیں۔ وکیل ذیشان علی کے ذریعے درخواست گزاروں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت پاکستان نے سال 2022-23ءمیں گریڈ 1سے 16تک کے تمام وفاقی ملازمین کے لیے ٹائم اسکیل پروموشن کا واضح اعلان کیا تھا جس پر متعدد وفاقی اداروں میں مکمل عمل درآمد کیا گیا تاہم این سی ایچ ڈی کے فیلڈ افسران کو اس قانونی اور آئینی حق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دسمبر 2024ءمیں وفاقی وزارت تعلیم نے این سی ایچ ڈی کے تقریباً 1300فیلڈ افسران میں سے صرف 98افسران کے ٹائم اسکیل پروموشن کے نوٹیفکیشن جاری کیے جبکہ باقی اہل افسران کے کیسز کو بلاجواز اور دانستہ طور پر تاخیر کا شکار بنایا گیا جو کہ کھلا امتیازی سلوک اور آئین کے آرٹیکل 25کی صریح خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ وہ ادارے میں 2006سے فرائض سر انجام دے رہے ہیں تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں 2013ء میں ریگولر کیا اور اب وہ 13سے زائد سالوں سے ایمانداری اور پیشہ ورانہ انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں مگر نہ تو انہیں ترقی دی گئی اور نہ ہی ٹائم اسکیل کا حق دیا گیا جس کے باعث ادارے میں شدید بے چینی‘ مایوسی اور اضطراب پایا جارہا ہے۔