اسلام آباد(خصوصی رپورٹر) ایوان بالا میں کراچی بلڈنگ آتشزدگی کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیا گیا ارکان نے کہا کہ کراچی سانحہ مجرمانہ غفلت ہے،مقدمات درج اور ذمہ داروں کو سخت ترین سزائیں ملنی چاہئیں، ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے ، الزام تراشی اور پولیٹیکل سکورنگ کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنے کو ہے،مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، سرمد علی ، کامران مرتضیٰ ، شیری رحمان و دیگر،نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر خالدہ عطیب نے کہاکہ واقعے میں 22سے زیادہ افراد کی ہلاکت جبکہ 70سے زیادہ لاپتہ ہیں یہ کس کی ذمہ داری ہے جس بلڈنگ اتھارٹی نے اس کو بنانے کی اجازت دی تھی اس کی ذمہ داری کس پر تھی صرف ایوان صدر میں اپنی کارکردگی پیش نہیں کرنی چاہیے تھی انہوں نے کہاکہ کراچی میں سانحات کا ایک تسلسل ہے جو ہورہے ہیں ،یہ ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے، ا ب یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت نقصانات کا زالہ کرے گی کیا مرنے والوں کا ازالہ ہوسکتا ہے ،سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ میرا تعلق کراچی سے ہے کراچی سانحے کا بہت دکھ ہے، الزام تراشی اور پولیٹیکل سکورنگ کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنے کو ہے یہ معاملہ پورے پاکستان کا ہے، نقشے پیسے لے کر پاس کیے جاتے ہیں اس بلڈنگ کے لیے ایک ہزار21 دکان پاس کی گئیں ،بعد میں 89دکانیں ایڈ کی گئی ہیں۔