• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ کپ کھیلنا حق، آخر تک لڑیں گے، بھارت نہیں جاسکتے، بنگلا دیش۔ بھارت کیلئے ایک اصول ہمارے لیے دوسرا؟

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی انٹر نیشنل کر کٹ کونسل پر بھی دوہرے معیار کا کھل کر الزام بھی عائد کیا ہے۔ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا حق ہے ،آخر تک لڑیں گے، آئی سی سی سے دوبارہ رابطہ کریں گے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں کھلاڑی اور مشیر کھیل بنگلادیش ڈاکٹر آصف نذرل بھی شریک ہوئے ﷰ۔ مشیر کھیل ڈاکٹر آصف نذرل نے کہا کہ ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں، کرکٹرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے وہ ہم سے اتفاق کرتے ہیں، بھارت میں سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، آئی سی سی نے ہمارے تحفظات کو تسلیم نہیں کیا، بھارتی حکومت نے قائل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش تک نہیں کی۔ ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا فیصلہ ہماری حکومت کا ہے،ہائبرڈ ماڈل کے تحت میچز کروانے کی درخواست کی۔ ورلڈکپ کھیلنا چاہتے ہیں اور ورلڈکپ کیلئے وینیو سری لنکا ہونا چاہیے۔دریں اثنا بورڈ چیف نے مؤثر طریقے سے آئی سی سی پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا ہے، گورننگ باڈی کی جانب سے بھارت کی جانب سے 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے میچز پاکستان کے بجائے امارات میں کھیلنے کی درخواست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو تمام میچز ایک مقام پر کھیلنے کا استحقاق دیا گیا، وہ ایک ہی گراؤنڈ میں کھیلے، ایک ہوٹل میں رہے۔ انہوں نے ماضی میں آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ جیسی ٹیموں کے 1996 اور 2003 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران مقامات پر کھیلنے سے انکار اور آئی سی سی کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ آئی سی سی بنگلہ دیش کو سری لنکا میں کھیلنے کی اجازت دینے کا ہائبرڈ ماڈل بھی اپنا سکتا ہے۔ ہم نے آئی سی سی کو بتایا کہ چونکہ ہماری حکومت ہچکچاہٹ کا شکار ہے، ہم اس آپشن کو لینا چاہتے ہیں۔ پھر بھی انہوں نے ہماری درخواست کو مسترد کر دیا، ہم عالمی کرکٹ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ کرکٹ 2028 میں اولمپکس میں شامل ہورہی ہے۔ بھارت اولمپکس اور کامن ویلتھ گیمز کیلئے بولی لگا رہا ہے، لیکن یہ ان کی ناکامی ہو گی اگر بنگلہ دیش ورلڈ کپ میں نہیں جائے گا ۔ ہم ورلڈ کپ کھیلنے سے دستبردار نہیں ہو رہے ہیں۔ ایک عالمی ادارہ 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن نہیں دے سکتا۔