اسلام آباد (رانا غلام قادر) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے اپوزیشن کے اعتراضات مسترد کر دیئے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے پاکستان کوفلسطینی حقوق کے دفاع کیلئے اہم کردار ملا،تاہم اسرائیل پر ہمارا موقف برقرار ہے، حصہ نہ بنتے تواپوزیشن کہتی ملک تنہا رہ گیا، علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا جو کام نیتن یاہو نہ کرسکا اب پیس بورڈ کے نام پر شروع ہوا، فضل الرحمٰن نے کہا شہباز شریف کو غلامی مبارک ہو ہمیں غلامی قبول نہیں، غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کے سامنےجمع ہوگئےایوان پر حملہ نامنظور،عدلیہ پر حملہ نامنظور، غزہ پیس بورڈ نامنظور اور نعرے لگائے، جس پراسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ یہ نعرے بازی اور بینرز بعد میں لہرا لینا یہ مشترکہ اجلاس ہے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے واپس بھیجے گئے تین بل کثرت رائے سے منظور،منظور کئے گئے بلوں میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025، دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025اور گھریلو تشدد(روک تھام وتحفظ) بل 2025شامل ہیں، گھریلو کے روک تھام و تحفظ بل میں بیوی کو گھورنے، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا جرم قرار دیا گیا ہے، پارلیمنٹ نے سانحہ کراچی پر اظہاریکجہتی کی قرارداد منظور کرلی۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جمعہ کے روزتین بلوں کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی۔ تینوں بلوں پرحکومتی اراکین کی ترامیم کو منظور جبکہ اپوزیشن کی ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔ یہ تینوں بل اس سے قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کئے جاچکے ہیں تاہم صدر مملکت نے یہ بل اعتراض لگا کر واپس بھیج دیئے تھے جنہیں اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر ایاز صا دق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سب سے پہلے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کی جانب سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دی بعدازاں ایوان نے بل کی شق وار منظوری دیدی۔ شازیہ مری نے بل میں ترمیم پیش کی تو وزیر مملکت بیرسٹر عقیل نے مخالفت نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ حکومت اس تر میم کو مکمل سپورٹ کرتی ہے۔ جے یو اآئی کی عالیہ کامران نے ترمیم پیش کی تو حکومت نے مخالفت کردی۔ ایوان نے بل پر شازیہ مری کی ترمیم کو منظور جبکہ عالیہ کامران اور کامران مرتضی کی ترامیم کومسترد کردیا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وفاقی وزیر ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جسکی ایوان نے منظوری دی۔ بل پر وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی ترامیم کی ایوان نے منظوری دی۔ ترمیم کے تحت دانش اسکولز کے قیام کو متعلقہ صوبائی حکام کی منظوری سے مشروط کیا جائیگا۔ اجلاس نے عالیہ کامران اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کی ترامیم کو ایوان نے مسترد کردیا۔ بعدازاں ایوان نے بل کی شق وار منظوری دیدی۔ قبل ازیں سینیٹرکامران مرتضیٰ نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہاکہ کہاکہ صوبائی حکومت کے ڈومین میں جانے سے قبل صوبوں سے مشاورت ضروری ہے۔ اسپیکر نے اپوزیشن کے اعتراضات نظر انداز کرتے ہوئے منظوری کا عمل شروع کردیا تاہم اپوزیشن نےنعرے بازی کی۔ مشترکہ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے گھریلو تشدد (روک تھام وتحفظ) بل 2025 ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دی۔