دبئی (جنگ نیوز) عالمی کرکٹ سیاست، دباؤ اور طاقت کے کھیل کی نذر ہو گئی ہے۔ اصول کمزور اور اثر و رسوخ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ بنگلہ دیش کے بھارت جانے سے انکار پر پیدا ہونے والی صورتحال نے آئی سی سی کا دوہرا معیار بے نقاب کر دیا۔ جس نے2025 پاکستان میں حالیہ چیمپئنز ٹرافی اور 1996 ورلڈ کپ کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ گذشتہ برس چیمپئنز ٹرافی میں بھارتی ٹیم نے سیکورٹی کا بہانہ بناکر پاکستان جانے سے انکار کیا، آئی سی سی نے اس کے تمام میچز امارات منتقل کردیے ، جہاں وہ چیمپئن بن گیا۔ اسی طرح 1996 میں سیکیورٹی خدشات کے باعث آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا جانے سے انکار کیا تھا تو آئی سی سی نےانہیں ایونٹ سے باہر کرنے کے بجائے میزبان ٹیم سری لنکا کو واک اوور دے کر معاملہ ختم کر دیا تھا۔ سری لنکا وہی ورلڈ کپ جیت کر عالمی چیمپئن بن گیا۔ آج منظر بالکل الٹ ہے۔ بنگلہ دیش نے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر بھارت جانے سے انکار کیا تو آئی سی سی کا لہجہ سخت ہو گیا۔انہیں کہہ دیا گیا ہے کہ بھارت جائیں یا ٹورنامنٹ سے باہر ۔مبصرین کے مطابق بدلے ہوئے رویے کے پیچھے بھارت کا اثر و رسوخ اور دولت نمایاں ہے۔ براڈکاسٹنگ حقوق، اسپانسرشپس اور اربوں ڈالر کے معاہدوں نے آئی سی سی کو غیرجانبدار ادارے کے بجائے مفادات کا محافظ بنا دیا ہے۔