پشاور(ارشد عزیز ملک) ضلع خیبر کے علاقے تیراہ سے ممکنہ عارضی اور رضاکارانہ نقل مکانی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر خیبر نے 28 اکتوبر کو صوبائی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا تھا، تاہم حکومت کی جانب سے بروقت انتظامات نہ ہونے کے باعث شدید برفباری کے دوران ہزاروں افراد مشکلات میں پھنس گئے۔ وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، معاملے کو فوج سے جوڑنا سازش ہے، موسم کی سختی کے باعث ہرسال لوگ نقل مکانی کرتے ہیں، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی ہو رہی ہے، آبادی کی منتقلی کی ضرورت نہیں،ایک سینئر سیکورٹی اہلکار نے جنگ کو بتایا کہ تیراہ آپریشن کے حوالے سے کور کمانڈر پشاور کسی بھی جرگہ پراسس کا حصہ نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کسی بھی مرحلے پر جرگہ ممبران سے زبردستی دستخط لیے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع خیبر کے علاقے تیراہ سے ممکنہ عارضی اور رضاکارانہ نقل مکانی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر خیبر نے 28 اکتوبر کو صوبائی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا تھا، حکومت کے پاس کافی وقت تھا حالانکہ نقل مکانی کا عمل 10 جنوری سے شروع ہونا تھا، لیکن پیشگی تیاری نہ ہونے سے انسانی بحران جنم لے گیا۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈپٹی کمشنر خیبر نے 28 اکتوبر کو اپنے خط میں تیراہ کے بعض علاقوں خصوصاً باغ سے آبادی کی متوقع نقل مکانی کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ، خوراک، نقد امداد، اور ٹرانزٹ و رجسٹریشن پوائنٹس کے قیام سمیت پیشگی ریلیف انتظامات کی درخواست کی تھی۔ خط میں واضح کیا گیا تھا کہ یہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رضامندی اور ضلعی سطح پر منعقدہ نمائندہ جرگے کی سفارشات کی بنیاد پر ہوگی، جس میں موسمی اور انتظامی حالات کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے اکتوبر میں دی گئی اس وارننگ کے باوجود عملی سطح پر کوئی مؤثر اقدامات نہ کیے جا سکے۔ تاہم سیکرٹری محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری نے 26 دسمبر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ خیبر پختونخوا 2010 کے تحت ضلع خیبر میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ متوقع رضاکارانہ نقل مکانی اور متاثرہ آبادی کی فلاح و بہبود کے پیش نظر انسانی ہمدردی پر مبنی تیاری اور ریلیف اقدامات ناگزیر ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ضلعی انتظامیہ خیبر کے ساتھ مل کر ٹرانسپورٹ، خوراک، ریفریشمنٹ، اور متاثرہ آبادی کیلئے ٹرانزٹ و رجسٹریشن پوائنٹس کے قیام اور انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔تمام اخراجات ریلیف اکاؤنٹ سے پورے کیے جائینگے، جو ڈپٹی کمشنر خیبر کے زیر انتظام ہوگا، جبکہ اکاؤنٹس اور انوینٹری کی باقاعدہ دیکھ بھال اور ریکارڈ کی پابندی کو بھی لازمی قرار دیا گیا۔وزارت اطلاعات و نشریات نے وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کردی۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق حکومت نے وادی تیراہ کو خالی کرانے کی گمراہ کن خبروں کا نوٹس لیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وادیٔ تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وادی تیراہ خالی کروانے کے دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، ان دعوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سیکورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادیٔ تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران پُرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے، کارروائیوں کیلئے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ مقامی آبادی خود علاقے میں خوارج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے۔ ایک سینئر سیکورٹی اہلکار نے جنگ کو بتایا کہ 31 دسمبر کو پشاور میں ایک بڑا جرگہ منعقد ہوا جس کی صدارت چیف سیکرٹری شاہ علی شاہ نے کی جبکہ آئی جی ایف سی نے اس جرگے میں بطور رکن شرکت کی۔ذرائع نے واضح کیا کہ کور کمانڈر نہ تو کبھی اس پراسس میں شامل رہے اور نہ ہی انہوں نے اس حوالے سے کوئی میٹنگ کی۔