• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہنگائی میں اضافہ، شرح سود برقرار، مالی سال 27-26 میں گرانی 5 تا 7 فیصد کے ہدف میں مستحکم رہے گی، اسٹیٹ بینک

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) اسٹیٹ بینک نے کاروباری برادری کی توقعات کے برعکس شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا علان کر دیا‘مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق جاری کیلنڈر سال کے چند ماہ کے دوران مہنگائی ہدف کی بالائی سطح سے عارضی طور پر تجاوز کر جائے گی جس کے بعد مالی سال 26ء اور مالی سال 27ء میں مہنگائی 5 تا 7 فیصد کے ہدف میں مستحکم رہے گی‘مالی سال 26ء میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کی حد میں رہنے کا تخمینہ ہے‘سالانہ بنیادی سرپلس کے ہدف کا حصول بظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر تا ایک فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ ہے‘درآمدات میں اضافہ ہوا جبکہ برآمدات گر گئیں جس کے سبب تجارتی خسارہ بڑھ گیا‘ زرمبادلہ ذخائر جون 2026ء تک بڑھ کر18ارب ڈالرڈالر تک پہنچنے کی توقع ہےجبکہ گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہناہے کہ بینک دولت پاکستان نے بینکوں کیلئے مطلوبہ نقدمحفوط (کیش ریزرو ریکوائرمنٹ )کی یومیہ حد کو چھ فیصد سے کم کرکےپانچ فیصدکردیاہے ‘ پاکستان کواس سال25ارب ڈالر قرض واپس کرنا ہے ‘اس میں سے 12.5ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور ہو رہا ہے‘ اسٹیٹ بینک نے پچھلے 3 سال میں اوپن مارکیٹ سے 22 ارب ڈالر خریدے ہیں‘جی ڈی پی گروتھ اب زیادہ ہو گی ‘دسمبر تک پاکستان کے سرکاری ڈالرذ خائر 20 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گےجو تاریخ کی بلندترین سطح ہوگی ‘ اس میں کمرشل بینکوں کے ڈالر ڈپازٹس شامل نہیں ہوں گے ۔تفصیلات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مانیٹری پالیسی نے پیر کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے دیکھا کہ عمومی مہنگائی دسمبر 2025ء میں سال بسال 5.6 فیصد رہی جو توقعات کے مطابق ہے تاہم قوزی مہنگائی حالیہ مہینوں میں تقریباً 7.4 فیصد کی نسبتاً بلند سطح پر براجمان ہے۔اقتصادی سرگرمیاں بدستور توقع سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس میں بنیادی کردار مقامی شعبوں کا ہے۔کارکنوں کی ترسیلات میں تسلسل اور اجناس کی عالمی قیمتیں سازگار رہنے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نسبتاً قابو میں رہا ہے ۔ مالی سال 26ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی کی سال بسال نمو عبوری طور پر 3.7 فیصد رپورٹ کی گئی جس کی بنیادی وجہ صنعت اور زراعت کے شعبوں کی نمو تھی۔ایف بی آر محاصل کی نمو دسمبر میں کم ہو کر 7.3 فیصد رہ گئی، جو مقررہ ہدف سے کم تھی۔آئی ایم ایف نے 2026ء کے لیے عالمی معاشی نمو کی پیش گوئی میں قدرے اضافہ کردیا۔ بڑے پیمانے کی اشیا سازی نے اکتوبر اور نومبر 2025ء میں بالترتیب 8.0 فیصد اور 10.4 فیصد سال بہ سال نمو درج کی، جس سے جولائی تا نومبر مالی سال 26ء کے دوران بڑے پیمانے کی اشیا سازی کی مجموعی شرح نمو بڑھ کر 6.0 فیصد تک پہنچ گئی۔ دسمبر 2025ء کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں 244 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا۔

اہم خبریں سے مزید