انصار عباسی
اسلام آباد :…کابینہ ڈویژن کی جانب سے وزراء کیلئے جاری کردہ مفصل ضابطۂ اخلاق کی موجودگی کے باوجود، وفاقی کابینہ کے ارکان ہر حکومت میں اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں، یہ صورتحال نظم و ضبط، احتساب اور آئینی اقدار کے احترام میں سنگین خلل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ ضابطۂ اخلاق، جس پر عمل حلف کے ذریعے وزیروں پر لازم ہوتا ہے، عوامی طرزِ عمل، مالی شفافیت، غیر ملکی روابط، کاروباری مفادات اور سرکاری اختیارات کے استعمال سے متعلق سخت اصول وضع کرتا ہے۔ تاہم متعدد شقیں ایسی ہیں جنہیں متعدد مرتبہ نظر انداز کیا گیا، جبکہ کسی بھی حکومت کی جانب سے ان پر عمل درآمد کرانے کے موثر شواہد سامنے نہیں آئے۔ ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے دی نیوز کو بتایا کہ ضابطۂ اخلاق وزراء کے ساتھ شیئر تو کیا جاتا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے عملاً کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ ضابطے کے مطابق، وزرا پر اجتماعی ذمہ داری کے اصول کی پابندی لازم ہے، یعنی کابینہ کے فیصلوں کی اعلانیہ حمایت ان کی آئینی ذمہ داری ہے، چاہے نجی طور پر وہ ان فیصلوں کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔ عہدے پر برقرار رہتے ہوئے اختلافِ رائے کا اظہار بالکل ممنوع ہے، اور اس صورت میں واحد آئینی راستہ استعفیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس عملاً یہ دیکھا گیا ہے کہ کابینہ کے ارکان ٹی وی انٹرویوز، سیاسی جلسوں اور سوشل میڈیا پر حکومتی فیصلوں سے علیحدگی اختیار کرتے نظر آتے ہیں، خصوصاً غیر مقبول پالیسیوں سے فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، لیکن اپنا عہدہ چھوڑنے یعنی استعفے سے گریز کرتے ہیں۔گورننس ماہرین کے مطابق، اس طرزِ عمل سے کابینہ پر مبنی حکومت کا تصور مجروح ہوتا ہے اور پالیسی سازی عوامی تضاد اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ ضابطۂ اخلاق میں وزراء کو اپنی وزارت سے باہر کے امور پر تبصرے سے بھی منع کیا گیا ہے، بالخصوص خارجہ امور اور دیگر ریاستوں سے تعلقات جیسے حساس معاملات پر۔ اس کے باوجود، ذرائع کے مطابق، اکثر وزراء ایسے معاملات پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں جو ان کے دائرۂ اختیار میں ہی نہیں۔ سفارت کاری یا قومی سلامتی کا کوئی باضابطہ مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود وزراء بین الاقوامی تعلقات، علاقائی تنازعات اور دیگر ممالک کے اقدامات پر بات کرتے اور موقف دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک اور نمایاں خلاف ورزی ان بیانات سے متعلق ہے جو وزراء حکومت کے زیرِ غور تجاویز، اسکیموں، محصولات، ٹیکسوں اور پالیسی اقدامات پر قبل از وقت دے دیتے ہیں۔ ضابطۂ اخلاق واضح طور پر خبردار کرتا ہے کہ ایسی کوئی بھی قیاس آرائی عوامی مفاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کے باوجود، قبل از وقت انکشافات کے باعث بارہا مارکیٹس میں بے چینی، متضاد پیغامات اور حکومت کو وضاحتی بیانات جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ضابطہ وزراء کو یہ بھی ہدایت دیتا ہے کہ وہ نجی افراد، غیر سرکاری تنظیموں یا غیر سرکاری اداروں کی جانب سے تقریبات کی افتتاحی دعوت یا مہمانِ خصوصی بننے کی پیشکش قبول کرنے سے قبل انتہائی احتیاط برتیں، اور متعلقہ حکام کے ذریعے منتظمین کے پس منظر اور ساکھ کی تصدیق کو یقینی بنائیں۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بھی اکثر احتیاطی تقاضے نظر انداز کیے جاتے ہیں، جو ضابطۂ اخلاق کی روح کے منافی ہے۔ اس کے برعکس، وزراء کو باقاعدگی سے نجی کارپوریٹ تقریبات، تشہیری تقاریب اور ایسے اداروں کے زیرِ اہتمام منعقدہ پروگراموں میں شرکت کرتے دیکھا جاتا ہے جن کی شہرت یا پس منظر واضح نہیں ہوتا، اور بظاہر پیشگی جانچ پڑتال بھی نہیں کی جاتی۔ سرکاری اہلکار نجی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ اس ضمن میں کوئی باضابطہ تصدیقی طریقہ کار عملاً اختیار نہیں کیا جا رہا۔ ضابطۂ اخلاق میں غیر ملکی مشنز اور سفارتی عملے سے روابط کے حوالے سے بھی سخت حدود مقرر کی گئی ہیں۔ وزراء کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر ملکی سفارت کاروں کی میزبانی میں ہونے والی سماجی تقریبات میں اس وقت تک شرکت نہ کریں جب تک انہیں باضابطہ طور پر اس کی ہدایت نہ دی جائے، جبکہ غیر ملکی معززین سے سرکاری نوعیت کی ملاقاتیں صرف ان کے وزارتی دائرۂ اختیار تک محدود رہیں اور ان کا مکمل ریکارڈ وزارتِ خارجہ کو فراہم کیا جائے۔ تاہم، صورتِحال یہ ہے کہ وزراء اکثر سفارتی استقبالیوں، نجی عشائیوں اور غیر ملکی میزبانی میں ہونے والی تقریبات میں بغیر کسی باضابطہ منظوری یا دستاویزی کارروائی کے شرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ غیر ملکی دوروں سے متعلق قواعد کے تحت پیشگی منظوری، وزارتِ خارجہ سے باقاعدہ رابطہ اور نجی اداروں کی جانب سے سفری اخراجات یا مہمان نوازی قبول کرنے پر واضح پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود ایسے بیرونِ ملک دوروں پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں جو غیر واضح انتظامات کے تحت کیے گئے، جن میں غیر ملکی کانفرنسوں اور فورمز میں شرکت شامل ہے، جہاں فنڈنگ کی تفصیلات سامنے نہیں آتیں۔ ضابطۂ اخلاق وزراء کو اپنے دورِ اقتدار میں نجی کمپنیوں یا شراکت داریوں سے وابستگی سے بھی واضح طور پر روکتا ہے، سوائے چند محدود معاملات کے، جیسے محض شیئر ہولڈنگ، وہ بھی انتظامی کنٹرول کے بغیر۔ اسی ضابطے کے تحت وزراء پر لازم ہے کہ وہ عہدہ سنبھالتے اور چھوڑتے وقت اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلی تفصیل جمع کرائیں، جس میں شریکِ حیات اور قریبی رشتہ داروں کے اثاثے بھی شامل ہوں۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے نشاندہی کی کہ اثاثوں کے گوشواروں کے نفاذ کا عمل محض رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے اور احتساب کے لحاظ سے اس کی افادیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ضابطۂ اخلاق وزراء کو اپنے ماتحت عملے سے تحائف وصول کرنے سے بھی سختی سے روکتا ہے، جبکہ غیر ملکی معززین کی جانب سے ملنے والے تحائف کی رپورٹنگ، ان کی مالیت کا تعین اور مقررہ حد سے تجاوز کی صورت میں یہ تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرانا لازم ہے۔ اس کے باوجود تحائف کے گوشواروں سے متعلق شفافیت بارہا اسکینڈلز کی صورت اختیار کر چکی ہے اور یہ معاملہ میڈیا کی زینت بنتا رہا ہے۔ ضابطہ وزرا کو انفرادی انتظامی معاملات میں مداخلت سے بھی روکتا ہے اور صرف عمومی پالیسی ہدایات دینے کی اجازت دیتا ہے، ماسوائے اس کے کہ کسی واضح خلافِ ضابطہ اقدام کی نشاندہی کی جائے۔ تاہم، اس کے برعکس تقرریوں، تبادلوں، خریداری کے معاملات اور انفرادی کیسز میں مداخلت سے متعلق شکایات مسلسل سامنے آتی رہی ہیں، جو نہ صرف ضابطۂ اخلاق بلکہ رولز آف بزنس کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ضابطۂ اخلاق محض علامتی دستاویز نہیں بلکہ براہِ راست آئینی حلف سے جڑی ڈاکیومنٹ ہے، یہ وہی حلف ہے جو وزراء عہدہ سنبھالتے وقت اٹھاتے ہیں، جس کے تحت وہ بلا خوف و خطر فرائض انجام دینے اور ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دینے کے پابند ہوتے ہیں۔ تاہم، موثر نفاذ کے فقدان نے اس ضابطے کو عملاً غیر فعال کر دیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کے ایک افسر کے بقول، قواعد کی کمی نہیں، کمی صرف اس عزم کی ہے کہ جب خلاف ورزیاں واضح ہوں تو ضابطے پر عمل بھی واضح نظر آنا چاہئے۔