کراچی (جنگ نیوز) ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کرنے اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کے فیصلے کو عالمی کرکٹ کے لیے ایک افسوسناک اور تشویشناک لمحہ قرار دے دیا اور کہا ہے کہ اہم ٹیم کی میگا ایونٹ سے محرومی نے نہ صرف کھیل کے موجودہ آپریٹنگ ماڈل بلکہ آئی سی سی کی غیر جانبداری پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انگلینڈ، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ سمیت 10 ممالک کی کھلاڑی تنظیموں پر مشتمل ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کی تنظیم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آئی سی سی فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، ورنہ عالمی کرکٹ چند بااثر ممالک تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ کرکٹ کی اصل طاقت تمام ٹیموں اور کھلاڑیوں کو مساوی احترام، تحفظ اور مواقع فراہم کرنے میں ہے، تاہم حالیہ فیصلے اس کے بالکل برعکس تاثر دیتے ہیں۔ معاہدوں کی پاسداری نہ کرنا اور کھلاڑیوں کے حقوق کو نظر انداز کرنا ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے، جو کھیل کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔عالمی کرکٹ ماہرین اور سابق کھلاڑیوں نے بھی آئی سی سی کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ طاقتور ممالک کے مفادات کی خاطر اصولوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے، جس سے کھیل کی ساکھ مجروح ہو رہی ہے۔