کراچی(اسٹاف رپورٹر) ملتِ جعفریہ پاکستان رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کے فیصلے کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اسے غیر آئینی، غیر قانونی، قومی مفادات کے منافی اور عوامی خواہشات کے سراسر خلاف قرار دیا ہے، علمائے اکرام نے اعلان کیا کہ وہ حماس اور فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑ ے ہیں اور 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہداء کے خون کا سودا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، شیعہ علما کونسل کے مرکزی رہنماء علامہ ناظر تقوی اور دیگر نے کہا کہ ٹرمپ بورڈ آف پیس درحقیقت عالمی امن نہیں بلکہ امریکی و اسرائیلی مفادات کے تحفظ کا ایک منظم منصوبہ ہے، جس کا مقصد اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں کو کمزور اور طاقت کے زور پر عالمی سیاست کو کنٹرول کرنا ہے، ’’طوفانِ اقصیٰ‘‘ کے بعد اسرائیل 2 سال گزرنے کے باوجود حماس کو شکست دینے میں ناکام رہا ہے جس کے بعد اب اسلامی ممالک کی افواج کے ذریعے مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، علما اکرام نے کہا کہ یہ اقدام آزاد فلسطینی ریاست کے تصور کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش اور اسلامی افواج کو حماس یا کسی بھی مزاحمتی گروہ کے خلاف استعمال کرنا امتِ مسلمہ کو آپس میں لڑانے کی کھلی سازش ہے، پاک فوج کو کسی بھی صورت غزہ یا کسی مزاحمتی تحریک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، پاک فوج پاکستان اور اسلام کی محافظ ہے، اسے امریکی یا اسرائیلی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ علما کرام نے واضح کیا کہ پاکستانی ٹیکس دہندگان کا پیسہ اسرائیل یا اس کے سرپرست منصوبوں پر ہرگز خرچ نہیں کیا جا سکتا اور اسرائیل سے کسی بھی سطح پر تعلقات نظریۂ پاکستان سے غداری کے مترادف ہیں،پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کیخلاف اشتعال انگیز بیانات، توہین اور قتل کی دھمکیوں کی شدید مذمت کی گئی،ملتِ جعفریہ نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ نام نہاد ٹرمپ بورڈ آف پیس سے فوری لاتعلقی کا اعلان کیا جائے،پریس کانفرنس میں عالم دین علامہ شیخ حسن صلاح الدین، علامہ شیخ محمد صادق جعفری، علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ نثار قلندری،حسن رضا، ایس ایم نقی اور دیگر موجود تھے ۔