• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شرح نمو کے تعین کیلئے بزنسز کا اخراج و شمولیت، قومی حسابات کا بنیادی سال تبدیل

اسلام آباد(مہتاب حیدر)دس سال کے وقفے کے بعد حکومت نے قومی حسابات (National Accounts) کے لیے بنیادی سال (Base Year) کو 2015-16 سے تبدیل کرکے 2025-26 کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاکہ جی ڈی پی کی شرحِ نمو کے تعین کے لیے بعض کاروباروں کو شامل اور بعض کو خارج کیا جا سکے۔اس طرح قومی حسابات کی لاگت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جو پہلے 608 ملین روپے تھی، اب 903.4 ملین روپے کر دی گئی ہے۔ اس اضافے کی وجہ 12 نئی سرویز کا شامل کیا جانا ہے، جن کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو جی ڈی پی کے تخمینے میں شامل کیا جائے گا۔گزشتہ برسوں میں قومی حسابات کے لیے پہلے 2005-06 اور بعد ازاں 2015-16 کو بنیادی سال کے طور پر اختیار کیا گیا تھا۔ اب دس سال بعد حکومت نے 2015-16 کی جگہ 2025-26 کو نیا بنیادی سال مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔منصوبے کے طے شدہ مقاصد کے مطابق، قومی حسابات کا بنیادی سال 2015-16 سے تبدیل کرکے 2025-26 کیا جائے گا اور جی ڈی پی، مجموعی مقررہ سرمایہ کاری (GFCF) اور جی ڈی پی پر ہونے والے اخراجات کے تخمینوں کو بہتر بنایا جائے گا، جس کے لیے دائرہ کار کو وسیع اور اعداد و شمار کے خلا کو پُر کیا جائے گا۔
اہم خبریں سے مزید