• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان میں پہلی مرتبہ AI کے ذریعے 111؍ اسامیوں پر بھرتی

اسلام آباد (عمر چیمہ)18؍ جنوری بلوچستان کی انتظامی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، ایسا لمحہ جو نہ صرف صوبے بلکہ پورے پاکستان میں سرکاری بھرتیوں کے طریقہ کار کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ ایک ایسا صوبہ جو طویل عرصے سے نااہلی، اقربا پروری اور سفارشی کلچر کی زد میں رہا ہے، وہاں چار گھنٹوں پر محیط ایک غیر معمولی تجربے نے یہ ثابت کر دیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے سرکاری بھرتیوں میں انسانی تعصب کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صوبائی محکمۂ خزانہ میں سب اکائونٹنٹس کی سو سے زائد آسامیوں پر بھرتی کا پورا عمل مکمل طور پر اے آئی پر مبنی نظام کے تحت انجام دیا گیا۔ سوالات کی تیاری سے امتحان، جانچ، شارٹ لسٹنگ اور حتیٰ کہ تقرری کے احکامات کے اجراء تک، ہر مرحلہ الگورتھم کے ذریعے مکمل ہوا۔ اس عمل کا اختتام اس وقت ہوا جب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے خود کامیاب امیدواروں میں تقرری کے خطوط تقسیم کیے، جن کا انتخاب کسی سلیکشن بورڈ نے نہیں بلکہ ایک خودکار نظام نے کیا تھا۔ محکمۂ خزانہ میں سب اکائونٹنٹس کی 111؍ سے زائد آسامیاں مبینہ طور پر بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات کی وجہ سے برسوں سے خالی تھیں۔ اس صورتحال کو بدلنے کیلئے وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری عمران زرقون، جو اس سے قبل سیکریٹری خزانہ بھی رہ چکے ہیں، نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تجویز پیش کی۔ اے آئی گورننس اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں تعلیمی پس منظر رکھنے والے عمران زرقون نے ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جس کا مقصد شفافیت، رفتار اور کم لاگت کو یقینی بنانا تھا۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے ان کی تجویز منظور کر لی۔ اس اے آئی سسٹم کو بھرتی کے ہر پہلو کو خودکار طور پر چلانے کیلئے تیار کیا گیا۔ متعین نصاب کی بنیاد پر 30؍ ہزار سوالات پر مشتمل سوالیہ بینک تیار کیا گیا۔ مارکنگ اسکیم میں مضمون سے متعلق علم کو 50؍ فیصد، کرٹیکل تھنکنگ (تنقیدی سوچ) کو 20؍ فیصد، لاجیکل ریزننگ (منطقی استدلال) کو 20؍ فیصد اور انگریزی زبان کی مہارت کو 10؍ فیصد وزن دیا گیا۔ بزنس ایڈمنسٹریشن یا کامرس میں بیچلرز ڈگری رکھنے والے امیدواروں کو درخواست دینے کی اجازت دی گئی۔ 18؍ جنوری کو ہونے والے ٹیسٹ میں امیدواروں کو امتحانی ہال میں اسمارٹ ٹیبلٹس دیے گئے، ہر امیدوار نے اپنا رول نمبر درج کیا، جس کے بعد اے آئی سسٹم نے فوری طور پر کثیرالانتخابی سوالات پر مشتمل ایک منفرد پرچہ تیار کیا۔ یوں کسی دو امیدواروں کو ایک جیسا پرچہ نہیں ملا۔ جیسے ہی کوئی امیدوار امتحان مکمل کرتا، سسٹم فوراً اس کے حاصل کردہ نمبر مرکزی اسکرین پر ظاہر کر دیتا، جہاں امیدوار کا نام اور ضلع بھی سب کے سامنے آ جاتا۔
اہم خبریں سے مزید