کراچی( اسٹاف رپورٹر )انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج کو روکنے کیلئے پولیس نے اہم شاہراہیں کنٹینر لگا کر بند کر دیں جس کے باعث بدترین ٹریفک جام ہو گیا،شام کو دفاتر کی چھٹی کے بعد ٹریفک کی صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ہزاروں شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کے پریس کلب کے باہر احتجاج کے پیش نظر پولیس نے پریس کلب جانے والے راستے اور اطراف کی سڑکیں کنٹینر اور بڑی گاڑیاں کھڑی کر کے بند کر دیں جس کے باعث اہم شاہراہوں پر پیر کی شب تک بدترین ٹریفک جام رہا۔پولیس نے دین محمد وفائی روڈ ، سرور شہید روڈ ، سلطان آباد ٹریفک چوکی جانب پی آئی ڈی سی چوک اور ایم ٹی خان روڈ کو کنٹینر اور بڑی گاڑیاں لگا کر بند کر دیا۔شام کو دفاتر کی چھٹی کے بعد ٹریفک کی صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ہزاروں شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔متعدد ایمبولینسیں بھی ٹریفک جام میں پھنس گئیں جس کے باعث مریضوں کی حالت بھی خراب ہو گئی جبکہ کئی شہریوں کی گاڑیوں کا فیول ختم ہو گیا جس کے باعث شہری خوار ہو گئے۔اہم شاہراہیں بند ہونے سے آئی آئی چندریگر روڈ ،شاہین کمپلیکس ، ایم آر کیانی چورنگی ، ایوان صدر روڈ، پریس کلب چورنگی ، زینب مارکیٹ ،صدر ،جناح برج رائونڈ ابائوٹ، جناح برج جانب ایم ٹی خان روڈ اور جناح برج فلائی اوور آنے اور جانے والے دونوں روڈز پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔واضح رہے کہ کراچی پریس کلب اور اطراف کی سڑکوں کو آئے روز بند کرنا پولیس نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔دوسری جانب کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی ،سیکرٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے کراچی پریس کلب اطراف کے راستوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو اظہارِ رائے آزادی کی دیتا ہے۔انتظامیہ فوری طور پر کراچی پریس کلب کے راستوں کی بار بار بندش کا نوٹس لے بصورت دیگر ہم بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔اپنے جاری بیان میں کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ کراچی پریس کلب کی ایک شاندار تاریخ ہے اور 1958 سے کراچی پریس کلب آزادی صحافت اور جمہوریت کا علمبردار ہونے کے ساتھ ساتھ مظلوموں اور محروموں کی آواز بن رہا ہے۔