• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جامعہ شاہ لطیف: سنیارٹی نظر انداز کر کے پانچویں نمبر کے پروفیسر کو ڈین بنانے کا انکشاف

کراچی (سید محمد عسکری)محکمہ بورڈز و جامعات سندھ کی جانب سے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور میں میرٹ اور سینیارٹی کے اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پانچویں نمبر پر آنے والے امیدوار پروفیسر لیاقت علی چانڈیو کو ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز مقرر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اعلیٰ تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق سال 2022 میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز میں سلیکشن بورڈ کے ذریعے پانچ اساتذہ کو بیک وقت پروفیسر مقرر کیا گیا، جن میں ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر سجاد ریئسی، ڈاکٹر سنتوش کمار، ڈاکٹر نادیہ آغا اور ڈاکٹر مجیب الرحمان ابڑو شامل تھے، جبکہ ڈاکٹر لیاقت علی چانڈیو کو اسسٹنٹ پروفیسر سے براہِ راست پروفیسر بنایا گیا۔ہائر ایجوکیشن کمیشن اور سندھ کی جامعاتکے قواعد کے مطابق ڈین کے عہدے کے لیے سینیارٹی کا تعین ایسوسی ایٹ پروفیسر سے پروفیسر بننے والوں کی بنیاد پر کیا جانا لازم تھا، جس کے تحت ڈاکٹر سجاد ریئسی، ڈاکٹر سنتوش کمار اور ڈاکٹر نادیہ آغا کے نام محکمہ بورڈز و جامعات کو ارسال کیے جانے چاہیئےتھے۔ تاہم، یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ تمام امیدوار ایک ہی وقت میں پروفیسر بنے ہیں، لہٰذا عمر کو معیار بنایا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی تشریح کے نتیجے میں عمر کی بنیاد پر پانچویں نمبر کے امیدوار ڈاکٹر لیاقت علی چانڈیو کو ڈین مقرر کر دیا گیا۔ اس پورے عمل میں سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ، جن کا تعلق بھی خیرپور سے بتایا جاتا ہے، نے سینیارٹی کے اصل تعین کے بجائے خاموشی اختیار کی۔یہ معاملہ اس تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس سے قبل لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو میں سینیارٹی کو نظرانداز کرتے ہوئے جونیئر پروفیسر کو پرو وائس چانسلر مقرر کرنے پر عدالت محکمہ بورڈز و جامعات کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے اور واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ سنڈیکیٹ سینیارٹی کی بنیاد پر سفارش کرے اور اسی بنیاد پر تقرری عمل میں لائی جائے۔
اہم خبریں سے مزید