اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا ہے کہ عوامی مفاد کامعاملہ نہ ہوتوہم فیصلے پر نظرثانی نہیں کرتے، تفصیلی انکوائری کے بعد درخواست گزار کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ درخواست گزار نے مس کنڈکٹ کوتسلیم کیا۔ قانونی طور پر مردہ شخص کے خلاف توہین عدالت نہیں ہوسکتی، کیا ہم باپ کی توہین عدالت پر بچوں کیخلاف کارروائی کرسکتے ہیں؟ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2رکنی بینچ نے پیرکے روز کیسز کی سماعت کی۔ بینچ نے محمد انصر کی جانب سے آئی جی پنجاب پولیس اوردیگر کے خلاف کرپشن کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کرنے کے معاملہ پر سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے محمد شاہدتصور بطور وکیل پیش ہوئے۔