• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت یورپ معاہدہ، پاکستانی برآمدات کے تحفظ کیلئے وزیراعظم کا اجلاس، حکمت عملی پر غور

اسلام آباد (مہتاب حیدر)یورپی یونین اور بھارت کے تجارتی معاہدہ  سے پاکستان کی ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدات پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ اندازوں کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر تک کا منفی اثر برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز ایک اعلیٰ سطح  اجلاس کی صدارت کی، جس میں یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں حصہ برقرار رکھنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ ʼجی ایس پی پلسʼ (GSP Plus) سے متعلق تمام تر پیش رفت کے بارے میں انہیں باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں۔ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق وزارتِ تجارت کو یورپی یونین–بھارت تجارتی معاہدے کی تمام تفصیلات اور آئندہ برسوں میں پاکستان کے ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں پر اس کے اثرات کا جامع جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔پاکستان نئی ʼجی ایس پی پلسʼ اسکیم کے لیے درخواست دینے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے برسلز میں یورپی کمیشن اور پارلیمنٹ دونوں سطحوں پر بھرپور لابنگ کی ضرورت ہے۔ توقع ہے کہ وصول کنندہ ممالک کے لیے نئی تجارتی مراعات کے ساتھ سخت شرائط وابستہ کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر ماحولیات، انسانی و سیاسی حقوق، اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین پاکستان میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار نہیں کر رہی، خاص طور پر ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری، اور دیگر سیاسی قیدیوں کے تناظر میں۔

اہم خبریں سے مزید