اسلام آباد (فخر درانی) مئی 2025ء کی بھارت پاکستان فوجی جھڑپ میں یہ سوال کہ ’’کون جیتا‘‘ بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ فتح کی تعریف کیا ہے۔ دی اکانومسٹ کے ایک حالیہ آرٹیکل میں بھارت کے درست حملوں کے دعوے کو کامیابی کا ثبوت قرار دیا گیا ہے، تاہم پاکستانی حکام کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ اس تنازع کا اسٹریٹجک توازن، کشیدگی میں اضافے کی ڈائنامکس اور سفارتی اثرات زیادہ پیچیدہ اور بھارت کیلئے کم موافق نتیجے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس اختلاف کی اہمیت محض ساکھ تک محدود نہیں بلکہ بحران کی متضاد تشریحات آئندہ فیصلوں کی سمت کا تعین کر سکتی ہیں، جس سے اگلی جھڑپ میں غلط اندازے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ وارننگ درست ہے، تاہم اس کے پیچھے کارفرما فریم ورک، خاص طور پر اہداف کی تباہی کو کامیابی کا بنیادی پیمانہ سمجھنا، تنازع کی نوعیت اور اس کے وسیع تر نتائج کو غلط سمجھنے کا باعث بن سکتا ہے۔ عسکری نتائج، کشیدگی کی نوعیت اور عالمی ردعمل کا قریب سے جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا موقف صرف دفاعی یا ردِعمل پر مبنی نہیں تھا بلکہ اسٹریٹجک لحاظ سے موثر تھا، لیکن اکانومسٹ اسے کم اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔ اس رپورٹ میں مئی 2025ء کی بھارت پاکستان فوجی جھڑپ پر دی اکانومسٹ کے حالیہ تجزیے کا جائزہ لیا گیا ہے، اور اکانومسٹ میں کئے گئے دعووں کو دستیاب شواہد، ماہرین کے تجزیوں اور مختلف فریقین کے سرکاری بیانات کی روشنی میں پرکھا گیا ہے۔ اسٹریٹجک تجزیے، علاقائی عسکری نقطہ نظر اور سفارتی تناظر کی بنیاد پر یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ میدانِ جنگ کی کارروائیاں کس طرح متضاد بیانیوں میں تبدیل ہوئیں اور یہ کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان بحران کے نتائج سے متعلق پیچیدہ تشریحات کے علاقائی اور عالمی سطح پر دیرپا اثرات کیوں ہیں۔ دی اکانومسٹ نے 10؍ مئی کو پاکستان کے اندر مخصوص اہداف پر حملہ کرنے اور پاکستان میں دراندازی کی بھارتی صلاحیت پر زور دیا ہے۔