• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آڈیٹر جنرل اعتراضات پر کسی کیخلاف ٹیکس کارروائی شروع نہیں کی جاسکتی، سپریم کورٹ

اسلام آباد(جنگ رپورٹر) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہےکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے سرکاری محکموں کے خلاف آڈٹ اعتراضات ( آبزرویشن)کو بنیاد بنا کر کسی شہری یا نجی کمپنی کے خلاف ٹیکس کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی،آڈیٹر جنرل کا کام سرکاری اداروں کے کھاتوں کی جانچ پڑتال جبکہ ٹیکس حکام کا کام ٹیکس قوانین تحت کارروائی کرنا ہے،دو الگ الگ ادارے ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ٹیکس ادائیگی کیس کاتحریر ی فیصلہ جاجاری کیا ،جسے جسٹس منیب اختر نے قلمبند کیا ، عدالت نے قرار دیا کہ آڈیٹر جنرل کے کسی اعتراض کو ایسی "معلومات" تصور نہیں کیا جا سکتا جس کی بنیاد پر ایف بی آریا ان لینڈ ریونیو کسی ٹیکس گزار کا آڈٹ شروع کردے یا اسے نوٹس جاری کرے،عدالت نے قرار دیا آرٹیکل 169تحت آڈیٹر جنرل کے اختیارات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اکا ئونٹس تک محدود ہیں اور آڈیٹر جنرل کے اختیارات کو نجی شعبے کی کمپنیوں تک نہیں پھیلایا جا سکتا ، ایسا کرنا قانون کی غلط تشریح اور غلط استعمال کے مترادف ہوگا ۔
اہم خبریں سے مزید