کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو یرغمال بنالیا ہے، ہمیں قبضےکا یہ نظام ختم کرنا ہوگا۔ہم وزیر اعلیٰ سندھ اور کراچی پر قابض میئر سے کہتے ہیں کہ وہ خود عوام کی جان چھوڑیں گے یا پھر جنریشن زی کے ہاتھوں بے دخل ہوں گے، 14فروری کو ہم سندھ اسمبلی پر دھرنا دیں گے اور اہل کراچی کا حق اور اختیار لے کر اٹھیں گے، کراچی میں اتنا بڑا سانحہ ہوگیا لیکن آج تک زرداری اور بلاول گل پلازہ نہیں آئےاور نہ ہی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اتنے بڑے سانحہ پر گل پلازہ آنے کی زحمت گوارا کی۔ اس بات کا اظہار انہوں نے اتوار کو شارع فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، سیف الدین ایڈوکیٹ، محمد فاروق، نوید علی بیگ،عتیق میر، یونس سوہن ایڈوکیٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نےکہا کہ کراچی 42فیصد ٹیکس دیتا ہے،54فیصد ریونیو ایکسپورٹ کرتا ہے، عوام کو بتایا جائے کہ غیر قانونی تعمیرات اور عمارتیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مرضی کے بغیر آخر کس طرح بن گئیں،انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ہونے والے دھرنے میں ہم سے جو وعدہ کئے تھے وہ پورے نہیں کئےگئے۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر کارپوریشن سمیت شہری ادارے با اختیار شہری حکومت کے حوالے کرنا ہوں گے،ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کراچی پر نہ وفاق نہ صوبے کا قبضہ چلے گا اس شہر کو آئین کے تحت با اختیار شہری حکومت دی جائے جس میں سارے ادارے اس کے ماتحت ہوں اور اس شہری حکومت کو تمام مالی و انتظامی اختیارات ہوں،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ہوتے ہوئے کراچی بھر میں غیرقانونی تعمیرات اور عمارتیں کیسے بن گئیں، یہ بتایا جائے، اس میں کس کس کی مرضی شامل تھی، یہ سارانظام اور سلسلہ زرداری تک جاتا ہے، ہم ان لوگوں سے بھی سوال کرتے ہیں کہ جنہوں نے سندھ سے سسٹم کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس سسٹم کو تو اسلام آباد میں لے جا کر بیٹھا دیا ہے، شہر کے لوگوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا تھا کہ میئر جماعت اسلامی کا ہوگا حالات تبدیل ہو جائیں گے اور اس شہر کا نقشہ بدل جائے گا لوگوں کو لوگوں کو ان کا حق ملے گا اچھی ٹرانسپورٹ ملے گی ،اچھی سڑکیں ملیں گی، پانی بجلی کا نظام ٹھیک ہوگا لیکن ان کو یہ قبول نہیں تھا انہیں نعمت اللہ خان کا دور نہیں دہرانا انہیں چور اور ڈاکو چاہیے ہوتے ہیں جن کا سوئچ کھولو چل پڑتے ہیں بند کرو بند ہو جاتے ہیں اسی لیے سیٹیں بھی ان کو دے دیتے ہیں میئر شپ بھی ان کو دے دیتے ہیں لیکن اب یہ نہیں چلے گا، آج کا جینے دو کراچی مارچ اہل کراچی کی امیدوں کا مرکز بن کر سامنے آیا ہے اور اہل کراچی کے احساسات و جذبات سے نہ صرف کراچی پورے ملک کو امید ہے، یہ شہر ملک کے ہر علاقے اور زبان بولنے والوں کا شہر ہے، نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، روزگار چاہتے ہیں لیکن حکومت نے ان کی تعلیم، روزگار اور جینے کا حق بھی چھین لیا ہے، گل پلازہ میں آگ لگی تو قابض میئر 23گھنٹے بعد پہنچے، وزیر اعلیٰ تو اس کے بھی بعد میں آئے،چند وڈیروں اور خاندانوں نے اختیارات و وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے،شہر میں ماس ٹرانزٹ اور لائٹ ٹرین کا نظام ہو لیکن ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے مل کر اس شہر کو تباہ و برباد کیا، خواتین، بچے، بزرگ، چنگ چی رکشوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں، آدھا شہر پانی سے محروم ہے، بہتر سڑکیں اوربسیں موجود نہیں، شہر کا یہ حال کرنے میں ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جنہوں نے اس شہر سے اس کا میئر چھینا اور فارم 47کے ذریعے مسترد کر دیا،حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جب عوام کا حق مارا جاتا ہے تو عوام کے اندر غم و غصہ پیدا ہوتا ہے، دہشت گردی کی ہم مذمت کرتے ہیں لیکن دہشت گردوں کی فیکٹریاں بنانے والوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پالیسیاں بدلیں، کے پی کے اور بلوچستان کے عوام کو تعلیم، روزگار اور ان کا حق دیا جائے،ہم واضح اعلان کرتے ہیں کہ کوئی فوج غزہ نہیں جائے گی۔