واشنگٹن (اے ایف پی، رفیق مانگٹ) نریندر مودی نے امریکا کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، بھارت کی امریکا سے دوستی ہوگی، بھارت امریکا تجارتی معاہدے کا اعلان، صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کردیگا، امریکا اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدے گا،نریندر مودی نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو شاندار رہی، ٹیرف میں کمی کا خیرمقدم کرتے ہیں تاہم انہوں نے روس سے تیل نہ خریدنے پر خاموشی اختیار کی، اپوزیشن کانگریس تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی حکومت کے فیصلوں کی اطلاع صرف صدر ٹرمپ یا امریکی سفیر سے ملتی ہے ، بھارت امریکی مصنوعات کی خریداری میں 500 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ کرے گا، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی تجارتی محصولات میں کمی پر فوری وضاحت نہیں دی، جے شنکر اور امیت شاہ نے امریکا سے تجارتی معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ کا بھارت سے تجارتی معاہدے کا اعلان، ٹیرف 25 سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ مودی نے روسی تیل نہ خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔ بھارت اب امریکا اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدے گا، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کو شاندار قرار دیتے ہوئے ٹیرف کمی کا خیرمقدم کیا، مگر روسی تیل پر خاموشی اختیار کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس سے تیل خریدنا بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے بدلے امریکا نے بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق روسی تیل کی خریداری پر لگایا گیا اضافی 25 فیصد جرمانہ نما ٹیرف بھی ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ بھارت اب امریکا اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدے گا۔ تاہم نریندر مودی نے ٹرمپ سے فون پر گفتگو کو “شاندار” قرار دیتے ہوئے ٹیرف میں کمی پر شکریہ ادا کیا، مگر روسی تیل کی خریداری روکنے کے دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ مودی نے پیر کو ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا آج اپنے عزیز دوست صدر ٹرمپ سے بات کر کے خوشی ہوئی۔ خوشی ہے کہ ’میڈ اِن انڈیا‘ مصنوعات پر اب 18 فیصد کم ٹیرف لاگو ہو گا۔بھارت اور امریکہ کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد طے پانے والے تجارتی معاہدے نے دونوں ممالک میں سیاسی اور اقتصادی بحث کو جنم دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے فوری طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور اسے بھارت کے لیے تاریخی کامیابی قرار دیا، جبکہ حزب اختلاف نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔