• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کو انکار، کرکٹ سے پیار، پاکستانی ٹیم کولمبو پہنچ گئی، سیکورٹی سخت ہوٹل منتقل

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سلمان علی آغا کی قیادت میں 15 رکنی پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے پیر کی شب سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو پہنچ گئی۔ اسکواڈ ٹیم کو سخت پہرے میں بندرا نائیکے ائرپورٹ سے ہوٹل منتقل کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی صورتحال میں پاکستان کو سپر ایٹ مرحلے میں پہنچنے کیلئے اپنے بقیہ میچ اچھے رن ریٹ کے ساتھ جیتنے ہونگے ۔ پھر سری لنکا کی بارشیں بھی پاکستان کی ورلڈ کپ مہم پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔ پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں خصوصی پرواز کے ذریعے سری لنکا پہنچی ہیں۔ پاکستان ٹیم پیر اور منگل کو آرام جبکہ بدھ سے پریکٹس سیشن میں حصہ لے گی۔ چار فروری کو آئرلینڈ کے خلاف پریکٹس میچ ہوگا۔پاکستان کا پہلا میچ ہفتے کو نیدر لینڈ کے خلاف ہوگا۔ بھارت کے خلاف15 فروری کے میچ میں شرکت سے انکار کے بعد دنیا بھر کی نظریں اب پاکستانی ٹیم پر ہیں۔ بھارتی میڈیا پاکستانی ٹیم کی خبروں کیلئے کولمبو پہنچ رہا ہے۔ پاکستان کے گروپ اے میں بھارت، امریکہ، نمیبیا اور نیدرلینڈز کی ٹیمیں شامل ہیں۔ غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان عامر میر سے پوچھا کہ کیا ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے کے دوران بھی پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی تو ان کا کہنا تھا اس کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا اور یہ فیصلہ بورڈ نہیں، حکومت کرے گی۔ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے باوجود پاکستان کے دوسرے رائونڈ میں رسائی کے امکانات روشن ہیں۔ کیوں کہ بقیہ تینوں ٹیمیں نسبتاً کمزور ہیں۔ سات فروری کو پاکستان کا میچ نیدرلینڈ، دس فروری کوامریکا اور18فروری کو نمیبیا کے خلاف میچ کھیلنا ہیں۔ بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے پر اس میچ کے 2 پوائنٹس بھارت کو مل جائیں گے۔ آئی سی سی قوانین کے مطابق بائیکاٹ کی صورت میں پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بھی بری طرح متاثر ہوگا، جبکہ بھارت کا نیٹ رن ریٹ متاثر نہیں ہو گا۔ آئی سی سی کے قانون کی شق 16.10.7 کے تحت، اگر کوئی ٹیم میچ کھیلنے سے انکار (forfeit) کرے تو اس ٹیم کے نیٹ رن ریٹ کا حساب پھر بھی ایسے کیا جائے گا کہ گویا اس ٹیم نے اس میچ میں پورے 20 اوورز کھیلے ہوں۔ یہ سمجھا جائے گا کہ پاکستان نے صفر رن اسکور کیے۔ روانگی سے قبل کپتان سلمان آغا نے کہا کہ نہ کھیلنے کا فیصلہ حکومت کا ہے ، ہمیں جو بورڈ کہے گا وہی کرنا ہے ۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے فیصلے کو ’نا انصافی‘ قرار دیتے ہوئے اسے دہرا معیار قرار دیا تھا۔
اسپورٹس سے مزید