کراچی (رفیق مانگٹ) ٹرمپ کی جانب سے بھارت کے ساتھ اچانک تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد جہاں ایک طرف بھارتی منڈیاں اور کرنسی سنبھلتی دکھائی دیں، وہیں دوسری جانب سیاسی حلقوں، کسان تنظیموں اور سرمایہ کاروں میں یہ خدشات شدت اختیار کر گئے کہ آیا کم محصولات کے بدلے بھارت نے ضرورت سے زیادہ رعایتیں تو نہیں دے دیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت اب کھل کر یہ یقین دہانی کرانے میں مصروف ہے کہ قومی مفادات، بالخصوص زراعت اور ڈیری کے شعبے، کو نقصان نہیں پہنچنے دیا گیا۔بھارتی وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے گزشتہ دو دنوں میں دو مرتبہ بیان دیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھارت نے اپنے زرعی شعبے، خاص طور پر ڈیری سیکٹر، کا مکمل تحفظ کیا۔تفصیلات کی عدم موجودگی نے خاص طور پر چھوٹے کسانوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ کسان تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں ملک گیر احتجاج کرے گی، جس میں 12 فروری کو ممکنہ ہڑتال بھی شامل ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے پارلیمان میں احتجاج کیا اور کہا کہ یہ معاہدہ امریکا کے حق میں اور بھارتی کسانوں کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ اس معاہدے میں بھارتی کسانوں کی محنت اور قربانیوں کا سودا کر دیا گیا ہے۔