کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) بلوچستان میں آپریشن مکمل ، 216دہشتگرد ہلاک ، کوئٹہ سے 100مشکوک افراد گرفتار کرلئے گئے ، معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند ودیگر نےپریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عوام کی وجہ سے فوری رسپانس میں مشکل پیش آئی، 22 سیکورٹی اہلکار اور 36 شہری شہید ہوئے ۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے ریڈ زون کو نشانہ بنانے کی کوشش کی عوام کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو فوری ریسپانس کرنے میں مشکل ہوئی دہشت گردوں نے کوئٹہ سمیت 12مقامات پر ناکام حملوں کی کوشش کی جسے سیکورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں نے ناکام بناتے ہوئے سرچ اور کومنگ آپریشنز میں 216دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جبکہ سو سے زائد مشکوک افراد کو حرست میں لے کر جدید ہتھیاروں کی بڑی تعداد قبضے میں لے لئے، دہشت گرد حملوں میں 22سیکورٹی اہلکار اور 36معصوم شہری شہید ہوئے نوشکی اور کوئٹہ کو کلیئر کر دیا گیا جیلوں سے فرار ہو نے والے قیدیوں کی گرفتاری کیلئے آپریشنز جاری ہے نوشکی کے علاوہ تمام علاقوں میں شاہراہیں کھلی ہوئی ہیں نویں او ر دسویں جماعت کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہونگے جبکہ پولیو مہم کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ موبائل انٹرنیٹ سروس رات سے بحال کر دی گئی ،مارے جان والے دہشت گردوح کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ علی مدد جتک نے صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے وزارت کا قلمدان ابھی نہیں ملا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں صوبائی وزرا شعیب نوشیروانی ٗ بخت محمد کاکڑ ٗ علی مدد جتک پارلیمانی سیکرٹری حاجی ولی محمد نورزئی اور سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ شاہد رند نے کہا کہ 31جنوری کو دہشتگردوں نے کوئٹہ کے ریڈ زون سمیت 12مقامات پر حملوں کی کوشش کی جسے ہمارے بہادر سیکورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں نے ناکام بنایاعوام کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو فوری ریسپانس کرنے میں مشکل ہوئی۔