• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمود شام ایک عہد کا نام، ان کا فن نصف صدی سے زائد پر محیط، جلیل عالی

اسلام آباد(عاطف شیرازی، نامہ نگار) معروف شاعر ،ادیب وکالم نویس محمود شام کو ان کی ادبی وصحافتی خدمات کے صلے میں خراج تحسین پیش کرنے کےحوالے سے الحمد اسلامک یونیورسٹی میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب کی صدارت معروف شاعر وادیب جلیل عالی نے کی صدر محفل جلیل عالی نے محمود شام کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ محمود شام ایک عہد کا نام ہیں ان کا فن نصف صدی سے زائد پر محیط ہے میں ان کی تحریروں کا ایک عرصہ سے تعاقب کررہا ہوں محمود شام میں پاکستانیت بھری ہوئی ہے آپ کو پاکستان،اقبال اور اسلام سے خصوصی درد مندی ہے۔محمود شام نے کہاکہ وہ انبالہ سے لاہور آئے گورنمنٹ کالج جھنگ سے گریجویشن کی اور گورنمنٹ کالج جھنگ کے مجلہ کاررواں کے ایڈیٹر بنے۔1960 میں پہلی غزل کہی اور اب تک غزل کہہ رہے ہیںگزشتہ 5-6 سالوں میں جب سفاکی اور ناانصافی زیادہ بڑھی ہے تو تخلیق نے بھی زیادہ جوش مارا ہے ان کے والد نے طبیہ کالج سے حکمت کی وہ بھی شاعر تھے لیکن ان کا کوئی دیوان نہیں ہے ،شاعری سے سفر شروع ہوا ہفت روزہ قندیل میں پہلی غزل شائع ہوئی جو مشرقی ومغربی پاکستان میں شائع ہوتا تھا انہوںنے پہلی غزل ایف اے میں کہی انہوں نے تقریب میں انکشاف کیا کہ 1964 میں پریس اینڈ پبلیکشن آرڈیننس آیا یہ آرڈیننس قدرت اللہ شہاب اور الطا ف گوہر نے بنایا تھااس آرڈیننس کیو جہ سے ہمارے میگزینز کے ڈیکلریشن کئی بار منسوخ کیے گئے ، تقریب میں محمود شام نے اپنا کلام بھی سنایا۔تقریب میں محمود شام پر پی ایچ ڈی کرنے والے ریسرچ سکالرامجد اعوان نے خصوصی مکالہ پڑھاجبکہ یونیورسٹی کے صدر نے محمود شام کو خصوصی سونئیر بھی دی۔ تقریب میں اسلام ک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی پروفیسر و افسانہ نگار حمیرااشفاق، ڈاکٹر شکیل روشن نے شرکت کی جبکہ نظامت پروفیسر شیر علی نے کی۔

اہم خبریں سے مزید