دبئی ( اے ایف پی) خلیجی ممالک کیلئے آبنائے ہرمز کا متبادل ابھی مشکل اور طویل عمل، ہرمز بندش سے برآمدات شدید متاثر،تیل و تجارت کے راستوں پر نظرثانی، نئی پائپ لائنز بنانا وقت طلب اور مہنگا ۔ قطر کو سب سے زیادہ مشکلات،زمینی راستے محدود اور اخراجات زیادہ، علاقائی سیاست و رقابت بڑی رکاوٹ ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے بعد خلیجی ممالک نے اپنی تیل اور تجارتی راہداریوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کا متبادل تلاش کرنا فی الحال ایک مشکل اور طویل عمل ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ کی بندش نے خطے کی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل پائپ لائنز اور بندرگاہوں کی منصوبہ بندی شروع کی ہے، مگر موجودہ صلاحیت ان کی سابقہ برآمدات کا صرف ایک حصہ سنبھال سکتی ہے۔