• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خاتون پولیس افسر کے بیٹے کی غنڈہ گردی،چیکنگ پر پولیس افسرکا گریبان پکڑ لیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈیفنس میں اسنیپ چیکنگ کےدوران گاڑی روکنے پر خاتون پولیس افسر کے بیٹے نے پولیس افسرکا گریبان پکڑ لیا، ڈیفنس میں جعلی نمبر پلیٹ لگی گاڑی روکنے پر ملزم کی بدکلامی، گارڈز کے ساتھ پولیس افسر پر حملہ اور گالیاں بکیں، ڈی آئی جی ساؤتھ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی کلفٹن انکوائری افسر مقرر کردیا، گاڑی تحویل میں لے کر ملزم حبیب کو گرفتار کر لیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری کام میں مداخلت اور حملے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج، سخت کارروائی کی جائے گی، پولیس نے انتباہ کیا ہے کہ پرائیویٹ گاڑیوں پر فینسی نمبر پلیٹس اور ہوٹرز کا استعمال غیر قانونی ہے، عوام ایسی سرگرمیوں سے باز رہیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈیفنس تھانے کی حدود شوکت خانم اسپتال لنک روڈ قیوم آباد فیز 7 ایکسٹیشن میں اسنیپ چیکنگ کےدوران گاڑی روکنے پر خاتون پولیس افسر کا بیٹا آپے سے باہر ہو گیا۔ خاتون پولیس افسر کے بیٹے نے اسنیپ چیکنگ پرمامور پولیس افسر کا گریبان پکڑ لیا اور ساتھ گالیاں بھی بکتا رہا۔ملزم نے مبینہ طور پر گاڑی پر پولیس لائٹس اور پولیس کی نمبر پلیٹ لگائی ہوئی تھی۔اسنیپ چیکنگ پرمامور پولیس نے اسے روکا تو خاتون پولیس افسرکے بیٹے نے بدکلامی کی۔ملزم نے سب انسپکٹر کا گریبان پکڑا اور مغلظات بھی بکیں۔خاتون افسر کے بیٹے کی گاڑی میں دو پرائیوٹ گارڈ بھی موجود تھے۔واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں خاتون افسر کے بیٹےکو پولیس افسر سےجھگڑا کرتے دیکھاجاسکتا ہے۔ ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے گاڑی پرجعلی نمبر پلیٹ لگانے کا ذکرکیا گیا جبکہ ایک وڈیو میں پولیس اہلکار بھی اسے یہ کہتے سنا گیا کہ میں بھی ایس ایس پی کا بیٹا ہوں۔ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ کو واقعہ کی فوری اور جامع تحقیقات کی ہدایات جاری کی ہیں۔ دوسری جانب سائوتھ پولیس نے بتایا کہ پرائیویٹ گاڑی پر پولیس نمبر پلیٹ استعمال کی گئی۔متعلقہ گاڑی کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ ڈرائیور حبیب ولد انور کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈیفنس پولیس نے واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 34//2026 زیر دفعہ 353/186/ 170/171 سب انسپکٹر شاہ زان شکیل کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ دریں اثناء ایس ایس پی نسیم آرا پہنور کے شوہر علی انور کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے سے بدتمیزی ہوئی، سب انسپکٹر نے اہلیہ کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگی، یکطرفہ کارروائی نہ کی جائے، جبکہ مدعی مقدمہ چوکی انچارج شاہزان شکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون افسر دس اہلکاروں کے ہمراہ تھانے پہنچیں اور زیر حراست گن مین چھڑا کر لے گئیں۔ تفصیلات کے مطابق خاتون ایس ایس پی نسیم آرا پہنور کے شوہر علی انور نے ڈیفنس تھانے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی سرکاری عہدے پر تعینات ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ میرے بیٹے سے بدتمیزی کی گئی واقعے کا پتہ چلنے پر میں اور اہلیہ (ایس ایس پی نسیم آرا پہنور) تھانے آئے اور ایس ایچ او سے ملاقات کی۔ اس دوران سب انسپکٹر نے میری اہلیہ کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگی تھی جسکے بعد ہم گھر چلے گئے جبکہ ایس ایس پی ساؤتھ کے کہنے پر گاڑی بھی پولیس کے حوالے کر دی تاہم پولیس نے مقدمہ درج کر کے بیٹے کو گرفتار کرلیا ۔ہم نے تو پولیس کی بات مانی لیکن انہوں نے کہا کہ صرف ایک جانب کی بات نہ سنی جائے واقعے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے بیٹا وکیل ہے جبکہ اس کے ہمراہ موجود گارڈز آر آر ایف کے ہیں ، مدعی مقدمہ ڈیفنس تھانے کی قیوم آباد پولیس چوکی انچارج شاہزان شکیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان کی گاڑی کا ماڈل 2023 یا 2024 کا ہے جس پر پولیس کا جاری کیے جانے والا نمبر سال 99 یا 2000 کا لگا ہوا تھا ۔ گاڑی روکنے کے بعد انھوں نے ڈرائیور سے نام پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ ایس ایس پی نسیم آرا پہنور کا بیٹا ہوں لیکن اپنا نام نہیں بتایا اور اپنے گارڈز سے کہا کہ اسے ہٹاؤ ، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ پرائیویٹ گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہے جبکہ سرکاری گن مین کی بھی اجازت نہیں ہے ، میں گرفتار کرنے کیلئے گاڑی کا دروازہ کھل کر ڈرائیور کا ہاتھ پکڑا تو اس نے میرا گریبان پکڑ لیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ خاتون ایس ایس پی اپنے ہمراہ 10 جوانوں کے ہمراہ آکر تھانے کا محاصرہ کر کے تھانے سے زیر حراست گن مین کو چھڑا کر لے گئیں ۔
اہم خبریں سے مزید