• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد، خودکش دھماکا، 31 شہید، 170 زخمی، نماز جمعہ کے دوران مسجد کے گیٹ پر حملہ آور نے خود کو اڑالیا

اسلام آباد (ایوب ناصر، نمائندہ خصوصی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے، نماز جمعہ کے دوران مسجد میں داخلے سے روکنے پر حملہ آور نے خود کو گیٹ پر اڑا لیا، دہشت گرد پر رضاکاروں کی فائرنگ، گولی ران میں لگی وہ گر پڑا، ساتھی نے فائر کھولا تو دہشت گرد پھر کھڑا ہوا اور گیٹ سے مسجد کے صحن میں گھس گیا، عینی شاہدین کے مطابق پہلی رکعت کے سجدے میں جاتےہی دھماکا ہوا، ایک حملہ آور فرار ہوگیا، دھماکے کے بعد ہر طرف لاشیں بکھری پڑی اور خوفناک تباہی کے مناظر تھے، زخمیوں کی اسپتالوں میں آمد کے ساتھ ہی سینکڑوں خواتین و حضرات اسپتالوں میں پہنچ گئے اور ایک دوسرے سے گلے مل کر بین کرتے رہے ، زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ،وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں، دارالحکومت میں 2008کے بعد کی یہ بدترین دہشت گردی ہے، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ امام بارگاہ و مسجد خدیجہ الکبریٰ پر حملہ آور کی شناخت، افغان شہری نہیں لیکن کئی بار افغانستان سفر کرچکا ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائے۔،داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے، تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے تھانہ شہزاد ٹاؤن کے علاقے میں امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکہ کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق اور 170 زخمی ہوگئے ہیں، تمام زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، پمز اور پولی کلینک میں زیر علاج 16 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ مرنے والوں میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا ایک فرسٹ کزن بھی شامل ہے جبکہ انکل بھی زخمی ہیں، وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی کلاں کے غازی شاہ امام روڈ پرامام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کے گیٹ پر خودکش حملہ آور کو روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، لاشوں اور زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کر دیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے 31 افراد جاں بحق اور 170 زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے، جڑواں شہروں کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ دھماکہ کے متاثرین کے معاملے میں اسلام آباد انتظامیہ سے معاونت کی جائے، مسجد میں دھماکا کی اطلاع ملتے ہی پولیس نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور موقع سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف وزیر داخلہ محسن نقوی نے امام بارگاہ پر خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پرافسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔ وزیراعظم نے وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات کر کے واقعہ کی تحقیقات کرکے فوری طور پر ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی ہے۔ 4 ڈیڈ باڈیز اور 12 زخمیوں کو پولی کلینک منتقل کیا گیا جبکہ 22 نعشیں اور 147 زخمی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، 4 زخمی بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی منتقل کئے گئے تھے جن میں سے ایک جانبر نہ ہو سکا ، پولیس ذرائع کے مطابق 5 نعشیں قومی ادارے صحت کے ہسپتال منتقل کی گئی تھیں۔ ڈپٹی کمشنر عرفان میمن پمز میں لمحہ با لمحہ صورت حال سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کرتے رہے، پمز کے مردہ خانے میں نعشیں رکھنے کی جگہ کم پڑنے پر قابل شناخت افراد کی نعشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر کے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے امام بارگاہ میں خود کش دھماکہ کر کے درجنوں افراد کی شہادت اور زخمی کرنے کا موجب بننے والے بمبار کی شناخت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق خود کش بمبار نے افغانستان سے دہشتگرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے۔حکومتی ذرائع نے بتایاکہ افغانستان میں موجود مختلف دہشتگرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطےکی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں، پاکستان میں ہر دہشتگردانہ کارروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کی شناخت نادرا کے ریکارڈ سے کی گئی، خود کش حملہ آور کا تعلق پشاور سے اور عمر 32سال ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے پہلے فائرنگ کی آوازیں بھی آئیں، دھماکے کے بعد پولیس اور فوج کے دستوں اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ تمام زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کردیا گیا، تمام اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی گئی۔ ایک عینی شاہد ایک نمازی کے مطابق ’نمازی پہلی رکعت پڑھ کر سجدے میں گئے تو دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہر طرف چیخ و پکار شروع ہو گئی۔ ہر طرف دھواں پھیل گیا تھا۔‘ اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والے زاہد علی نے میڈیا کو بتایا کہ امام بارگاہ میں نماز ایک بجے شروع ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں آخری صفوں میں کونے پر کھڑا تھا۔ میں بے ہوش ہو گیا تھا اور اب مجھے ہوش آیا۔‘زاہد علی کے ساتھ موجود ان کے ایک کزن جواد خان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں اکھٹے نماز پڑھنے گئے تھے جبکہ اُنھیں وضو کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی۔ ’میں جب وضو کر کے آیا تو اس وقت نمازی سجدے میں چلے گئے تھے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ خود کش بمبار نے گیٹ پر موجود گارڈ پر فائرنگ کی اور وہ اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘جواد خان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر مزید فائرنگ بھی ہوئی تھی۔ ایک اورعینی شاہد محمد کاظم نے پمز ہسپتال کے باہر میڈیا کو بتایا کہ وہ دوپہر ایک بجے کے قریب مسجد پہنچے اور امام کے پیچھے ساتویں یا آٹھویں صف میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا، نماز کے دوران جیسے ہی ہم پہلے رکوع میں گئے، اچانک فائرنگ کی آوازیں آئیں اور اسی حالت میں ایک زوردار دھماکا ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ مسجد کی چھت سے ملبہ نیچے گرا اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ جب وہ باہر نکلے تو ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ ایک اور عینی شاہد عمران محمود نے بتایا کہ خودکش حملہ آور اور اسکے ساتھی کا مسجد کے حفاظتی رضاکاروں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ عمران کے مطابق حملہ آور آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہمارے ایک زخمی رضاکار نے پیچھے سے اس پر گولی چلائی جو اس کی ران میں لگی۔ وہ گرا لیکن پھر اٹھ کھڑا ہوا، جبکہ اس کے دوسرے ساتھی نے رضاکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس دوران حملہ آور نے گیٹ پر چھلانگ لگائی اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دوسری جانب وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خودکش حملہ آور کو امام بارگاہ کی اگلی صفوں تک پہنچنے سے روکا گیا تو اس نے فائرنگ شروع کر دی، حملہ آور نے گیٹ پر ہی دھماکہ کر دیا، خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے،تمام ریسکیو ادارے 10 سے 12 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچے، یہ دہشت گرد اللّٰہ کی راہ میں نہیں ڈالرز کی خاطر دھماکے کرتے ہیں، جتنے زیادہ لوگوں کی اموات ہونگی اتنے زیادہ ڈالر ان لوگوں کو ملتے ہیں۔جمعہ کی شام یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تفتیش جاری ہے اور ان کے سہولت کاروں تک پہنچا جا رہا ہے، انشاء اللّٰہ 72 گھنٹوں کے اندر ہم ان تمام ہینڈلرز اور اس واقعے میں ملوث افراد کے بارے میں تفصیلی رپورٹ وزیر اعظم کے حکم پر پیش کر دیں گے۔ وزیر مملکت داخلہ کہا کہ یہ سکیورٹی کی ناکامی نہیں ہے، یہ ایک ردعمل ہے کیونکہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست ہیں اسی لیے ہم پر حملے کیے جا رہے ہیں، وہ صرف اس دیوار کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور وہ دیوار ’پاکستان‘ ہے۔ اگر یہ دیوار کمزور ہوئی تو یہ آگ ہماری سرحدوں تک نہیں رکے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سکیورٹی ادارے اپنا اپنا کام کر رہے ہیں، اس کارروائی کے بعد خودکش بمبار کی شناخت ہو چکی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تب ہی محفوظ ہوگا جب ہم پورے پاکستان کو محفوظ کریں گے، اسلام آباد کی سرحدیں خیبر پختونخوا سے لگتی ہیں اور یہ ایک بہت لمبی سرحد ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا پہلا شہر ہے جو ’سیف سٹی‘ سے آگے بڑھ کر اب ’اسمارٹ سٹی‘ بننے جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ حکومت زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور متاثرہ افراد کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود صورتِ حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید