لاہور (نمائندہ جنگ) لاہور میں بسنت کے پہلے روز ہی پتنگ بازی اور کٹی پتنگ لوٹنے کے واقعات خونی شکل اختیار کر گئے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد شہری مبینہ طور پر زخمی ہو گئے۔ زیادہ تر حادثات خطرناک ڈور، چھتوں سے غیر محفوظ انداز میں اترنے اور بجلی کی تاروں کے قریب پتنگ لوٹنے کے باعث پیش آئے،واضح رہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب رات 12 بجے پتنگ بازی کی جیسے ہی اجازت ملی صرف 4گھنٹوں میں ہی 1نوجوان جاں بحق اور 6سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوچکی تھیں ،دیگر واقعات دیگر اوقات میں رپورٹ ہوئے، ریسکیو ذرائع کے مطابق سکھ نہر کے قریب 25 سالہ رشید کٹی پتنگ لوٹتے ہوئے بجلی کے پول کے قریب آیا جہاں کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔مدینہ کالونی باغبانپورہ میں واقعہ عقب شالیمار باغ، گلی نمبر 18 میں پیش آیا جہاں 18 سالہ زین کٹی پتنگ پکڑنے کی کوشش میں چھت سے گر کر موقع پر ہی دم توڑ گیا، متوفی دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔اسی طرح والٹن کے علاقے میں 35 سالہ سعد پتنگ بازی کے دوران چھلانگ لگاتے ہوئے گھر کی چھت سےگلی میں گر گیا، جو جان لیوا ثابت ہوا۔ادھر سبزہ زار لاہور میں پتنگ پکڑنے کے دوران بجلی کا کرنٹ لگنے سے باپ، چچا اور بھتیجا شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی شناخت طیب، ارسلان اور سبحان کے نام سے ہوئی۔پتنگ کی ڈور پھرنے، چھتوں سے گرنے اور کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں زخمی ہونے والوں میں30 سالہ حبیب ولد محمد حنیف، 30 سالہ سمیع اللہ ولد جاوید، 14 سالہ سلمان ولد نثار، 17 سالہ محمد سالم ولد ارشاد احمد، 37 سالہ احسن ولد محمد اکرم، 17 سالہ عبداللہ ولد محمد ارشد، 8 سالہ ارحا دختر ندیم، 12 سالہ عبدالواحد ولد محمد صالحان، 14 سالہ عبدالمعید ولد محمد عامر، 25 سالہ دانیال ولد اشرف، 25 سالہ محمد معظم ولد محمد علی، 16 سالہ عدیل فاروق ولد فاروق مسیح، 15 سالہ خضر، 6 سالہ حذیفہ ولد راشد، 19 سالہ علی رضا ولد محمد سلیم، 30 سالہ حامد ولد ظفر حسین، 18 سالہ شہباز ولد جمیل، 16 سالہ شہروز ولد محمد ندیم، 29 سالہ ثاقب ولد رمضان، 24 سالہ سمیر ولد جاوید اور 20 سالہ صیام ولد مقصود شامل ہیں، جنہیں مختلف سرکاری ہسپتالوں میں طبی امداد دی گئی۔