• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روسی تیل کی درآمد روکنے پر بھارت کو تجارتی ریلیف، ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر

کراچی (رفیق مانگٹ) روسی تیل کی درآمد روکنے پر بھارت کو تجارتی ریلیف،ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر، روسی تیل پر مؤقف بدلنے کے بعد امریکہ نے بھارت پر عائد اضافی 25 فیصد ٹیرف ختم کر دیا۔ امریکی توانائی کی خریداری کے عہد پر بھارت کو ٹیرف رعایت، خلاف ورزی پر پابندیاں واپس آ سکتی ہیں۔ امریکہ نے روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر بھارت پر عائد اضافی 25 فیصد ٹیرف ختم کر دیا ہے، جسے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ تجارتی مفاہمت کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت 7 فروری سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس ایگزیکٹو آرڈر اور دیگر رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے روسی فیڈریشن سے تیل کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد روکنے کا واضح عہد کیا ہے، جس کے بعد اس پر عائد اضافی 25 فیصد ٹیرف ختم کر دیا گیا۔ اگر بھارت مستقبل میں دوبارہ روسی تیل کی خریداری کرتا ہے تو یہ اضافی ٹیرف دوبارہ نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ایگزیکٹو آرڈر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت نے امریکہ سے امریکی توانائی مصنوعات خریدنے کا وعدہ کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام امریکہ اور بھارت کے درمیان طے پانے والے حالیہ عبوری تجارتی فریم ورک کا حصہ ہے، جس کے تحت بھارتی اشیا پر امریکی مجموعی ٹیرف کم ہو کر 18 فیصد تک آ گئے ہیں۔
اہم خبریں سے مزید