• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پشاور پولیس پر 9 مئی مقدمے کی شفاف تفتیش میں ناکامی و جانبداری کے الزامات

پشاور (ارشد عزیز ملک ) 9 مئی کے کیس میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے وکیل شبیر حسین گگیانی نے پشاور پولیس کی تفتیش پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور پولیس نے اس مقدمے میں نہ صرف ناقص ، غیرسنجیدہ بلکہ غیر دیانت دارانہ تفتیش کی۔ انھوں نے پشاور پولیس کی جانب سے ان پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے حوالے سے تمام ویڈیو شہادتیں عدالت کی فائل میں موجود تھیں جو پولیس نے نگراں دور حکومت میں جمع کروائیں اور پھر انھیں فرانزک کے لئے نہیں بھجوایا جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے شبیر حسین گیگیانی نے کہا کہ پولیس تین سالوں میں اپنی تفتیش مکمل نہیں کرسکی انھوں نےپولیس کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام ویڈیو شہادتیں پہلے ہی عدالت کی فائل کا حصہ تھیں لیکن اس کے باوجود پولیس نے ان شواہد کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیاانہوں نے کہا کہ پولیس نے نہ تو ملزمان کی شناخت پریڈ کروائی اور نہ ہی ریڈیو پاکستان کے متاثرہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ ان کے مطابق متاثرین کے بیانات تفتیش کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں لیکن اس کیس میں اس اہم قانونی تقاضے کو بھی نظر انداز کیا گیا۔شبیر حسین گگیانی نے کہا کہ نو مئی کے حوالے سے ویڈیوز اور تصاویر موجود تھیں لیکن پولیس نے انہیں چالان کا حصہ نہیں بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے مضبوط شواہد کے باوجود کیس کمزور ہوا اور ملزمان کو فائدہ پہنچا۔انہوں نے مزید کہا کہ کیس میں دفعہ 161 کے تحت پولیس اور دفعہ 164 کے تحت عدالت میں بیانات قلمبند ہونے چاہییں تھے لیکن پولیس نے یہ قانونی کارروائی بھی مکمل نہیں کی۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ نے واضح طور پر یہ اصول طے کر دیا تھا کہ ویڈیو اور آڈیو مواد اور پروفائل تصاویر کو فرانزک جانچ کے لیے متعلقہ اداروں کو بھجوایا جانا چاہیے تاکہ ان کی تصدیق کی جا سکے۔
اہم خبریں سے مزید