• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کھیلوں میں سیاسی مداخلت، بھارت کے 2036 اولمپکس کیلئے خطرہ

کراچی (رفیق مانگٹ) کھیلوں میں سیاسی مداخلت، بھارت کے 2036اولمپکس کیلئے خطرہ، کرکٹ بحران سے بھارتی عالمی کھیل میزبانی کی ساکھ کو دھچکا، کھلاڑی کا سیاسی اخراج، غیر سیاسی کھیل پر سوالیہ نشان، ویزا انکار اور بائیکاٹ، میزبان بھارت داخلے کی ضمانت دینے میں ناکام، 2036 اولمپکس کی انڈین بولی مشکوک، آئی او سی پہلے ہی بھارت کی بولی پر گورننس، اینٹی ڈوپنگ اور کارکردگی پر تحفظات رکھتا ہے۔ امریکی جریدہ فارن پالیسی لکھتا ہے بھارت کی کھیلوں میں سیاسی مداخلت 2036 اولمپکس کے خواب کو نقصان پہنچا رہی ہے۔بھارت، جو 2036 کے سمر اولمپکس کی میزبانی کے خواب دیکھ رہا ہے، ایک ایسے کرکٹ بحران میں الجھ چکا ہے جو اس خواب کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہا ہے۔ مردوں کے ٹی20 ورلڈ کپ کے انعقاد سے قبل بائیکاٹ، ویزا انکار اور کرکٹ سفارت کاری کے تنازعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارتی حکومت کھیل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہےوہی رویہ جس سے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) خبردار کرتی آئی ہے۔بھارت عملی طور پر یہ ثابت کر رہا ہے کہ اسے اس ذمہ داری کے قابل کیوں نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2036 اولمپکس کو بھارت کے عالمی وژن کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔بحران کا آغاز جنوری میں مصتفیض الرحمٰن کو آئی پی ایل سے نکالنے کے فیصلے سے ہوا۔

اہم خبریں سے مزید