• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر پولیس کا دھاوا، ایم پی اے و دیگر گرفتار، کچھ دیر بعد رہا کردیا

کراچی( نیوز ایجنسیاں) جماعت اسلامی کی جانب 8 فروری کے عام انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرلیا جنہیں کچھ دیر بعد رہا کردیا گیا، گرفتاری کے موقع پر پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنان آمنے سامنے آگئے،کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی، پولیس نے پریس کانفرنس روکنے کیلئے علاقے کی دکانیں اور ہوٹلز زبردستی بند کرا دیئے تھے، رہائی کے بعد ادارہ نور حق میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ایم پی اے محمد فاروق نے کہا کہ جتنی ایف آی آر کاٹنی ہے کاٹو 14فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر ہر صورت دھرنا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی نے 8 فروری کے عام انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا۔جہاں سے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت دیگر مرکزی و ضلعی ذمہ داران کو پولیس نے گرفتار کرلیا،بعدازاں حراست میں لیے جانے والے جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد کارکنان کی بڑی تعداد جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نور حق پہنچ گئی جہاں قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز اور رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ مسلم پرویز نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سندھ حکومت دستور و قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہے۔ آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم ہر جگہ اپنی رائے کا اظہار کریں، آج ہم آئین و دستور کے مطابق پریس کے سامنے اپنی بات رکھ رہے تھے مگر پیپلز پارٹی نے فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے کارکنان اور ذمہ داران کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کی ہے، اسی لیے جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی پیداوار خود جانتی ہے کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں۔ رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے فارم 47 پر قائم حکومت اور الیکشن کمیشن سندھ کے خلاف عوامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا، جسے روکنے کے لیے سندھ حکومت نے فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے 19 کارکنان و ذمہ داران کو گرفتار کیا۔
اہم خبریں سے مزید