اسلام آباد (رپورٹ: حنیف خالد)روس کے سفیر البرٹ پی خوروف نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریسرچ اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار بعنوان روسی سفارتکاری کا ورثہ، پاک روس تعلقات کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روسی سفارتکاری کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور اس کی بنیاد قومی مفادات کے تحفظ، امن، توازن اور مکالمے پر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ روس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات انیس سو اڑتالیس میں قائم ہوئے اور سرد جنگ کے باوجود دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مختلف شعبوں میں فروغ پاتے رہے، توانائی، صنعت اور بنیادی ڈھانچے میں سوویت تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج روس اور پاکستان کے تعلقات ایک نئے اور مثبت مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، اعلیٰ سطحی سیاسی روابط، پارلیمانی تبادلے، وزرائے خارجہ کی ملاقاتیں اور اقوام متحدہ و شنگھائی تعاون تنظیم میں قریبی ہم آہنگی اس کی واضح مثال ہے، سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک منصفانہ اور کثیرقطبی عالمی نظام، دہشت گردی، انتہاپسندی، نیو نازی ازم، اسلاموفوبیا اور نوآبادیاتی سوچ کی مخالفت پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔