• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میڈیکل اور ڈینٹل داخلوں کے معیار میں نظرِثانی کی تجویز مسترد کرتے ہیں ،پیما

پشاور (خصوصی نامہ نگار) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے میڈیکل اور ڈینٹل داخلوں کے معیار میں نظرِ ثانی کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تجویز نہ صرف میرٹ کے اصولوں سے متصادم ہے بلکہ طبی تعلیم کے موجودہ شفاف اور متفقہ نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ پیما کے مرکزی صدر پروفیسر عاطف حفیظ صدیقی نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کا نصاب اور امتحان پورے ملک میں یکساں تھا اور مجموعی طور پر اس کے امتحانی عمل پر کوئی سنجیدہ اعتراض سامنے نہیں آیا، نہ ہی امتحان کے دوران بدعنوانی یا کرپشن کا واقعہ ہوا۔ یہ نظام تمام سٹیک ہولڈرز کے لیثے قابلِ قبول رہا ہے، اس لئے طے شدہ ضابطوں کے تحت ہی طلبہ کو داخلے دیئے جانے چاہئیں اگر اس مرحلے پر میرٹ کے معیار میں کمی کی گئی تو ایم ڈی کیٹ کا پورا نظام اپنی افادیت کھو دے گا۔انہوں نے کہا کہ داخلہ پالیسی میں میرٹ پر سمجھوتہ شفافیت، تعلیمی معیار، پیشہ ورانہ تربیت و مہارت اور مریضوں کے لیثے قابل اور باصلاحیت ڈاکٹروں کی فراہمی کے عمل کو شدید نقصان پہنچائے گا، اور طبی تعلیم کو تجارتی مفادات کے تابع بنانے کا راستہ ہموار کرے گا۔ پیما میرٹ پر مبنی، یکساں اور شفاف داخلہ پالیسی کے سختی سے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں کسی دباؤ یا مفاد کو دخل حاصل نہ ہو۔ پیما نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر ضروری اور غیر منصفانہ تبدیلی کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے، موجودہ داخلہ نظام کا تحفظ کرے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو میڈیکل ایجوکیشن کے معیار اور عوامی اعتماد کو مجروح کریں۔
پشاور سے مزید