کراچی (افضل ندیم ڈوگر) اردو کے معروف شعر "لائے اس بت کو التجا کر کے، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے" کے عین مطابق کراچی کے جہانگیر روڈ پر مہینوں کی خواری کے بعد شہریوں کی سن لی گئی ہے جہاں تین ہٹی سے گرومندر کی طرف تین کلو میٹر کے ٹوٹے پھوٹے روڈ کی ازسر نو تعمیر شروع کر دی گئی ہے جہانگیر روڈ کو اب روایتی طریقے سے ڈامر سے نہیں بلکہ کنکریٹ کا فرش بچھا کر پیور (سیمنٹ کی اینٹیں) لگا کر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ٹھیکے دار کے مطابق اس روڈ پر سیوریج لائن کا کام بھی نئے سرے سے کیا جا رہا ہے ٹھیکیدار نے بتایا کہ ایک ہفتے میں تین ہٹی سے گرومندر تک کے ٹریک کو مکمل کردیا جائے گا جبکہ بعد دوسری طرف کا کام شروع کیا جائے گا۔ اس علاقے میں فٹ پاتھ کے ساتھ پہلے سے تعمیر نالے پر سلیبس ہٹا کر گٹر کھول دیئے گئے ہیں جس سے شہریوں خاص طور پر بچوں کے نالے میں گرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دوسری طرف تین ہٹی کے اطراف بھی غیرمعمولی کھدائی کر دی گئی ہے جہاں پر زیر زمین سیورج لائن ڈالی جا رہی ہے۔ جہانگیر روڈ کا زیر تعمیر ایک ٹریک ٹریفک کیلئے بند ہے جبکہ پولیس اہلکار نہ ہونے کی وجہ سے شہری دوسرے روڈ پر ون وے انا شروع ہوجاتے ہیں جس سے ٹریفک گھنٹوں جام رہتا ہے۔