کراچی (جنگ نیوز) بھارت میں مودی سرکار آنے کے بعد پاکستانی اور بھارتی کرکٹرز اب ہاتھ تک نہیں ملاتے لیکن دونوں کبھی کرکٹ پلیٹ فارم پر متحد اور مضبوط بلاک بناتے تھے جس کی بدولت 1987 میں پہلی بار کرکٹ ورلڈکپ انگلینڈ سے اور برصغیر میں کھیلا گیا، یہی وہ دور تھا جب کرکٹ تمام خطے کے اجتماعی مفاد کی نمائندہ بن گئی۔ اسی تسلسل کی ایک تاریخی کڑی فروری 1996 میں اس وقت سامنے آئی، جب سری لنکا میں جاری خانہ جنگی اور کولمبو میں مرکزی بینک پر خودکش حملے کے بعد ورلڈ کپ کی میزبانی خطرے میں پڑ گئی۔ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا جانے سے انکار کر دیا۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان اور بھارت نے غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے کولمبو میں ایک مشترکہ ٹیم میدان میں اتاری ۔ شائقین نے سچن ٹنڈولکر، سعید انور، وسیم اکرم اور انیل کمبلے جیسے کرکٹرز کو ایک ہی جرسی میں ایک ساتھ دیکھا۔ جس نے 13 فروری 1996 کو آر پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیل کر یہ پیغام دیا کہ سری لنکا کرکٹ کیلئے محفوظ ہے۔ یہ میچ محض نمائشی مقابلہ نہیں تھا بلکہ ایک سفارتی اقدام تھا، جس کے نتیجے میں ورلڈ کپ کے تمام میچز طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوئے ۔ آج کے تناظر میں، جب پاک بھارت کرکٹ تعلقات ڈیڈ لاک کا شکار ہیں، 1996 کا یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ایک وقت میں دونوں ممالک کرکٹ کے ذریعے نہ صرف بحران کا حل نکالتے تھے بلکہ عالمی سطح پر مشترکہ مؤقف کے ساتھ کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ کرکٹ کو موقع دیا جائے آج بھی پل بن سکتی ہے۔